مشن مسلم اونلی

سورۃ الفاتحۃ (المکیۃ)

افتتاح ( مکہ میں نازل ہوئی )

آیات کی تعداد = 7

رکوع کی تعداد = 1

سورۃ الفاتحۃ (المکیۃ)

افتتاح ( مکہ میں نازل ہوئی )

رکوع کی تعداد = 1

آیات کی تعداد = 7

بسم اللہ سورہ نمل کی ایک آیت یا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی کتاب کو اسی یعنی ( «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» ) سے شروع کیا ۔ علماء کا اتفاق ہے کہ آیت «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» سورۃ نمل کی ایک آیت ہے ۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ وہ ہر سورت کے شروع میں خود مستقل آیت ہے ؟ یا ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے جو اس کے شروع میں لکھی گئی ہے ؟ یا ہر سورت کی آیت کا جزو ہے ؟ یا صرف سورۃ فاتحہ ہی کی آیت ہے اور دوسری سورتوں کی نہیں ؟ صرف ایک سورت کو دوسری سورت سے علیحدہ کرنے کے لیے لکھی گئی ہے ؟ اور خود آیت نہیں ہے ؟ علماء سلف اور خلف کا ان آرا میں اختلاف چلا آتا ہے ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موود ہے ۔ سنن ابوداؤد میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کی جدائی نہیں جانتے تھے جب تک آپ پر «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» نازل نہیں ہوتی تھی} ۱؎ ۔ (سنن ابوداود:788،قال الشیخ الألبانی:صحیح) یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے ۲؎ (مستدرک حاکم:231/1) ایک مرسل حدیث میں یہ روایت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے ۔ چنانچہ صحیح ابن خزیمہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللہِ » کو سورۃ فاتحہ کے شروع میں نماز میں پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کیا} ۳؎ (ابن خزیمہ:493:ضعیف) لیکن اس کے ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ضعیف ہیں اسی مفہوم کی ایک روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۴؎ ۔ (دارقطنی:312/1:ضعیف) سیدنا علی ، سیدنا ابن عباس ، سیدنا عبداللہ بن عمر ، سیدنا عبداللہ بن زبیر ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ، عطا ، طاؤس ، سعید بن جبیر ، مکحول اور زہری رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ «بِسْمِ اللہِ » ہر سورت کے آغاز میں ایک مستقل آیت ہے سوائے سورۃ برات کے ۔ ان صحابہ اور تابعین کے علاوہ عبداللہ بن مبارک ، امام شافعی ، امام احمد اور اسحٰق بن راہویہ اور ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے ۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ۔ کہ «بِسْمِ اللہِ » الخ نہ تو سورۃ فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورت کی ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ «بِسْمِ اللہِ » الخ سورۃ فاتحہ کی تو ایک آیت ہے لیکن کسی اور سورۃ کی نہیں ۔ ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سورت کے اول کی آیت کا حصہ ہے لیکن یہ دونوں قول غریب ہیں ۔ داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول میں «بِسْمِ اللہِ » ایک مستقل آیت ہے سورت میں داخل نہیں ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے ۱؎ اور ابوبکر رازی رحمہ اللہ نے ابوحسن کرخی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بڑے پایہ کے ساتھی تھے ۔ یہ تو تھی بحث «بِسْمِ اللہِ » کے سورۃ فاتحہ کی آیت ہونے یا نہ ہونے کی ۔ [ صحیح مذہب یہی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن پاک میں یہ آیت شریفہ ہے وہاں مستقل آیت ہے «وَاللہُ اَعْلَمُ» مترجم ] بسم اللہ با آواز بلند یا دبی آواز سے؟ اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا اسے با آواز بلند پڑھنا چاہیئے یا پست آواز سے ؟ جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ کی آیت نہیں کہتے وہ تو اسے بلند آواز سے پڑھنے کے بھی قائل نہیں ۔ اسی طرح جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ سے الگ ایک آیت مانتے ہیں وہ بھی اس کے پست آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول سے ہے ۔ ان میں اختلاف ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا تو مذہب ہے کہ سورۃ فاتحہ اور ہر سورت سے پہلے اسے اونچی آواز سے پڑھنا چاہیئے ۔ صحابہ ، تابعین اور مسلمانوں کے مقدم و مؤخر امامین کی جماعتوں کا یہی مذہب ہے صحابہ میں سے اسے اونچی آواز سے پڑھنے والے سیدنا ابوہریرہ ، سیدنا ابن عمر ، سیدنا ابن عباس ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم ہیں ۔ بیہقی رحمہ اللہ اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ۱؎ اور سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے بھی غریب سند سے امام خطیب بغدادی نے نقل کیا ہے۔ تابعین میں سے سعید بن جبیر ، عکرمہ ، ابوقلابہ ، زہری ، علی بن حسن ان کے لڑکے محمد ، سعید بن مسیب ، عطاء ، طاؤس ، مجاہد ، سالم ، محمد بن کعب قرظی ، عبید ، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ، ابووائل ابن سیرین ، محمد بن منکدر ، علی بن عبداللہ بن عباس ان کے صاحبزادے محمد نافع ابن عمر کے مولیٰ زید بن اسلم ، عمر بن عبدالعزیز ، ارزق بن قیس ، حبیب بن ابی ثابت ، ابوشعثا ، مکحول ، عبداللہ بن معقل بن مقرن اور بروایت بیہقی ، عبداللہ بن صفوان ، محمد بن حنفیہ اور بروایت ابن عبدالبر عمرو بن دینار رحمہم اللہ سب کے سب ان نمازوں میں جن میں قرأت اونچی آواز سے پڑھی جاتی ہے «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» بھی بلند آواز سے پڑھتے تھے ۔ ایک دلیل تو اس کی یہ ہے کہ جب یہ آیت سورۃ فاتحہ میں سے ہے تو پھر پوری سورت کی طرح یہ بھی اونچی آواز سے ہی پڑھنی چاہیئے ۔ علاوہ ازیں سنن نسائی ، صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان ، مستدرک حاکم میں مروی ہے کہ {سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور قرأت میں اونچی آواز سے «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» بھی پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں مشابہ ہوں} ۱؎ ۔ (سنن نسائی:906،تخریج دارالدعوہ:صحیح) اس حدیث کو دارقطنی ، خطیب اور بیہقی وغیرہ نے صحیح کہا ہے ۲؎ ۔ ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» سے شروع کیا کرتے تھے} ۳؎ ۔ (سنن ترمذی:245،قال الشیخ الألبانی:ضعیف الإسناد) امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث ایسی زیادہ صحیح نہیں ۔ مستدرک حاکم میں انہی سے روایت ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے} ۴؎ ۔ (مستدرک حاکم:208/1:ضعیف جدا) امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز قرات صحیح بخاری میں ہے کہ {انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کس طرح تھی ۔ فرمایا کہ ہر کھڑے لفظ کو آپ لمبا کر کے پڑھتے تھے پھر «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» پڑھ کر سنائی «بِسْمِ اللہِ » پر مد کیا «الرَّحْمٰنِ» پر مد کیا «الرَّحِیمِ» پر مد کیا} ۱؎ ۔ (صحیح بخاری:5046) مسند احمد ، سنن ابوداؤد ، صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہر آیت پر رکتے تھے اور آپ کی قرأت الگ الگ ہوتی تھی جیسے «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» پھر ٹھہر کر «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» پھر ٹھہر کر «لرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» پھر ٹھہر کر «مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ»} ۲؎ ۔ (سنن ترمذی:2927،قال الشیخ الألبانی:صحیح) دارقطنی اسے صحیح بتاتے ہیں ۳؎ ۔ امام شافعی ، امام حاکم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ {معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں نماز پڑھائی اور «بِسْمِ اللہِ » نہ پڑھی تو جو مہاجر اصحاب رضی اللہ عنہم وہاں موجود تھے انہوں نے ٹوکا ۔ چنانچہ پھر وہ جب نماز پڑھانے کو کھڑے ہوئے تو «بِسْمِ اللہِ » پڑھی} ۴؎ ۔ (مسند شافعی:80/1:حسن) غالباً اتنی ہی احادیث و آثار اس مذہب کی حجت کے لیے کافی ہیں ۔ باقی رہے اس کے خلاف آثار ، روایات ، ان کی سندیں ، ان کی تعلیل ، ان کا ضعف اور ان کی تقاریر وغیرہ ان کا دوسرے مقام پر ذکر اور ہے ۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ نماز میں «بِسْمِ اللہِ » کو زور سے نہ پڑھنا چاہیئے ۔ خلفاء اربعہ اور عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہم ، تابعین اور بعد والوں کی جماعتوں سے یہ ثابت ہے ۔ امام ابوحنیفہ ، امام ثوری ، امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے ۔ امام مالک کا مذہب ہے کہ سرے سے «بِسْمِ اللہِ » پڑھے ہی نہیں نہ تو آہستہ نہ بلند ۱؎ ۔ ان کی دلیل ایک تو صحیح مسلم والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر سے اور قرأت کو «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» سے ہی شروع کیا کرتے تھے} ۲؎ ۔ (صحیح مسلم:498) صحیحین میں ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں {میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی یہ سب «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» سے ہی شروع کرتے تھے} ۳؎ ۔ (صحیح بخاری:743) صحیح مسلم میں ہے کہ {«بِسْمِ اللہِ » نہیں پڑھتے تھے نہ تو قرأت کے شروع میں نہ اس قرأت کے آخر میں} ۴؎ ۔ (صحیح مسلم:399) سنن میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے ۵؎ ۔ (سنن ترمذی:244،قال الشیخ الألبانی: ضعیف) یہ ہے دلیل ان ائمہ کے «بِسْمِ اللہِ » آہستہ پڑھنے کی ۔ یہ خیال رہے کہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہر ایک فریق دوسرے کی نماز کی صحت کا قائل ہے ۔ «فالْحَمْدُ لِلّٰہ» [ «بِسْمِ اللہِ » کا مطلق نہ پڑھنا تو ٹھیک نہیں ۔ بلند و پست پڑھنے کی احادیث میں اس طرح تطبیق ہو سکتی ہے کہ دونوں جائز ہیں ۔ گو پست پڑھنے کی احادیث قدرے زور دار ہیں «وَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم ] فصل بسم اللہ کی فضیلت کا بیان تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ {عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بِسْمِ اللہِ » کی نسبت سوال کیا آپ نے فرمایا : ”یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے بڑے ناموں اور اس میں اس قدر نزدیکی ہے جیسے آنکھ کی سیاہی اور سفیدی میں“} ۱؎ ۔ (تفسیر ابن ابی حاتم:21/1:موضوع باطل) ابن مردویہ میں بھی اسی طرح کی روایت ہے ۔ اور یہ روایت بھی ابن مردویہ میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ نے معلم کے پاس بٹھایا تو اس نے کہا لکھئے «بِسْمِ اللہِ » عیسیٰ علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللہِ » کیا ہے ؟ استاد نے جواب دیا میں نہیں جانتا ۔ آپ نے فرمایا : «ب» سے مراد اللہ تعالیٰ کا «بہا» یعنی بلندی ہے اور «س» سے مراد اس کی «سنا» یعنی نور اور روشنی ہے اور «م» سے مراد اس کی مملکت یعنی بادشاہی ہے اور «اللہ» کہتے ہیں معبودوں کے معبود اور اور «رحمن» کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے کو «رحیم» کہتے ہیں ۔ آخرت میں کرم و رحم کرنے والے کو“} ۲؎ ۔ (الکامل لابن عدی:303/1:موضوع باطل) ابن جریر میں بھی یہی روایت ہے ۳؎ (تفسیر ابن جریر الطبری:140:موضوع باطل) لیکن سند کی رو سے یہ بے حد غریب ہے ، ممکن ہے کسی صحابی وغیرہ سے مروی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی روایتوں میں سے ہو ۔ مرفوع حدیث نہ ہو «وَاللہُ اَعْلَمُ»۔ ابن مردویہ میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جو کسی اور نبی پر سوائے سلیمان علیہ السلام کے نہیں اتری ۔ وہ آیت «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» ہے ۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» اتری بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے ۔ ہوائیں ساکن ہو گئیں ۔ سمندر ٹھہر گیا جانوروں نے کان لگا لیے ۔ شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے اور پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہو گی ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے انیس داروغوں سے جو بچنا چاہے وہ «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» پڑھے ، اس کے بھی انیس حروف ہیں ، ہر حرف ہر فرشتے سے بچاؤ بن جائے گا ۔ اسے ابن عطیہ نے بیان کیا ہے ۔ اس کی تائید ایک اور حدیث سے بھی کی ہے جس میں {آپ نے فرمایا :”میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب ایک شخص نے «رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ» پڑھا تھا“} ۱؎ ۔ (صحیح بخاری:799) اس میں بھی تیس سے اوپر حروف ہیں اتنے ہی فرشتے اترے اسی طرح «بِسْمِ اللہِ » میں بھی انیس حروف ہیں اور وہاں فرشتوں کی تعداد بھی انیس ہے وغیرہ وغیرہ ۔ مسند احمد میں ہے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جو صحابی سوار تھے ، ان کا بیان ہے کہ آپ کی اونٹنی ذرا پھسلی تو میں نے کہا شیطان کا ستیاناس ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ نہ کہو اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا ۔ ہاں «بِسْمِ اللہِ » کہنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل و پست ہو جاتا ہے“} ۱؎ ۔ (سنن ابوداود:4982،قال الشیخ الألبانی:صحیح) نسائی نے اپنی کتاب «عمل الیوم واللیلہ» میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے نقل کیا ہے اور صحابی کا نام اسامہ بن عمیر بتایا ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ {«بِسْمِ اللہِ » کہہ کر «بِسْمِ اللہِ » کی برکت سے شیطان ذلیل ہو گا} ۲؎ ۔ (النسائی فی عمل الیوم واللیہ:559:صحیح بالشواھد) اسی لیے ہر کام اور ہر بات کے شروع میں «بِسْمِ اللہِ » کہہ لینا مستحب ہے ۔ خطبہ کے شروع میں بھی «بِسْمِ اللہِ » کہنی چاہیئے ۔ حدیث میں ہے کہ {جس کام کو «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکتا ہوتا ہے} ۳؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:1894،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) بیت الخلاء [پاخانہ] میں جانے کے وقت «بِسْمِ اللہِ » پڑھ لے ۱؎ ۔ (سنن ترمذی:606،قال الشیخ الألبانی: صحیح) حدیث میں یہ بھی ہے کہ وضو کے وقت بھی پڑھ لے ۔ مسند احمد اور سنن میں ابوہریرہ ، سعید بن زید اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص وضو میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہوتا“} ۲؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:399،قال الشیخ الألبانی:حسن) یہ حدیث حسن ہے بعض علماء تو وضو کے وقت آغاز میں «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» پڑھنا واجب بتاتے ہیں ۔ بعض مطلق وجوب کے قائل ہیں ۔ جانور کو ذبح کرتے وقت بھی اس کا پڑھنا مستحب ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک جماعت کا یہی خیال ہے ۔ بعض نے یاد آنے کے وقت اور بعض نے مطلقاً اسے واجب کہا ہے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آئے گا «ان شاءاللہ تعالیٰ» ۔ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی فضیلت میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں ۔ ایک میں ہے کہ ” جب تو اپنی بیوی کے پاس جائے اور «بِسْمِ اللہِ » پڑھ لے اور اللہ کوئی اولاد بخشے تو اس کے اپنے اور اس کی اولاد کے سانسوں کی گنتی کے برابر تیرے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جائیں گی ۔“ لیکن یہ روایت بالکل بے اصل ہے ، میں نے تو یہ کہیں کسی معتبر کتاب میں نہیں پائی ۔ کھاتے وقت بھی «بِسْمِ اللہِ » پڑھنی مستحب ہے ۔ صحیح مسلم [و بخاری] میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”[ جو آپ کی پرورش میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے اگلے خاوند سے تھے ] کہ «بِسْمِ اللہِ » کہو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے نوالہ اٹھایا کرو“} ۱؎ ۔ (صحیح بخاری:5376) بعض علماء اس وقت بھی «بِسْمِ اللہِ » کا کہنا واجب بتلاتے ہیں ۔ بیوی سے ملنے [جماع] کے وقت بھی «بِسْمِ اللہِ » پڑھنی چاہیئے ۔ صحیحین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ملنے کا ارادہ کرے تو یہ پڑھے «بِاسْمِ اللہِ ، اللہُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» یعنی اے اللہ ہمیں اور جو ہمیں تو دے اسے شیطان سے بچا ۔“ فرماتے ہیں کہ اگر اس جماع سے حمل ٹھہر جائے تو اس بچہ کو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا} ۱؎ ۔ (صحیح بخاری:141) یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ «بِسْمِ اللہِ » کی «ب» کا تعلق کس سے ہے نحویوں کے اس میں دو قول ہیں اور دونوں ہی تقریباً ہم خیال ہیں ۔ بعض اسم کہتے ہیں اور بعض فعل ، ہر ایک کی دلیل قرآن سے ملتی ہے جو لوگ اسم کے ساتھ متعلق بتاتے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ «بِسْمِ اللہِ اِبْتِدَائِی» یعنی اللہ کے نام سے میری ابتداء ہے ۔ قرآن میں ہے «وَقَالَ ارْکَبُوا فِیہَا بِسْمِ اللہِ مَجْرَاہَا وَمُرْسَاہَا إِنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَحِیمٌ» ۲؎ (11-ہود:41) اس میں اسم یعنی مصدر ظاہر کر دیا گیا ہے اور جو لوگ فعل مقدر بتاتے ہیں چاہے وہ امر ہو یا خبر ۔ جیسے کہ «أَبْدَأُ بِسْمِ اللہِ » اور «ابتدات بِسْمِ اللہِ » ان کی دلیل آیت «قْرَأْ بِاسْمِ» ۳؎ الخ ہے۔ دراصل دونوں ہی صحیح ہیں ، اس لیے کہ فعل کے لیے بھی مصدر کا ہونا ضروری ہے تو اختیار ہے کہ فعل کو مقدر مانا جائے اور اس کے مصدر کو مطابق اس فعل کے جس کا نام پہلے لیا گیا ہے ۔ کھڑا ہونا ہو، بیٹھنا ہو ، کھانا ہو ، پینا ہو ، قرآن کا پڑھنا ہو ، وضو اور نماز وغیرہ ہو ، ان سب کے شروع میں برکت حاصل کرنے کے لیے امداد چاہنے کے لیے اور قبولیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا نام لینا مشروع ہے «وَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں روایت ہے ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ {جب سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر آئے تو فرمایا : اے محمد ! کہئے «أَسْتَعِیذ بِاَللَّہِ السَّمِیع الْعَلِیم مِنْ الشَّیْطَان الرَّجِیم» پھر کہا کہئے «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» مقصود یہ تھا کہ اٹھنا ، بیٹھنا ، پڑھنا سب اللہ کے نام سے شروع ہو} ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:137:ضعیف منقطع) بے معنی بحث اسم یعنی نام ہی «مُسَمَّی» یعنی نام والا ہے یا کچھ اور اس میں اہل علم کے تین قول ہیں ایک تو یہ کہ اسم ہی «مُسَمَّی» ہے ۔ ابوعبیدہ کا اور سیبویہ کا بھی یہی قول ہے ۔ باقلانی اور ابن فورک کی رائے بھی یہی ہے ۔ ابن خطیب رازی اپنی تفسیر کے مقدمات میں لکھتے ہیں ۔ حشویہ اور کرامیہ اور اشعریہ تو کہتے ہیں اسم نفس «مُسَمَّی» ہے اور نفس «تَّسْمِیَۃ» کا «غَیْر» ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اسم «مُسَمَّی» کا «غَیْر» ہے اور نفس «تَّسْمِیَۃ» ہے ۔ ہمارے نزدیک اسم «مُسَمَّی» کا بھی «غَیْر» ہے اور «تَّسْمِیَۃ»ہ کا بھی ۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اسم سے مراد لفظ ہے جو آوازوں کے ٹکڑوں اور حروف کا مجموعہ ہے تو بالبداہت ثابت ہے کہ یہ «مُسَمَّی» کا «غَیْر» ہے اور اگر اسم سے مراد ذات «مُسَمَّی» ہے تو یہ وضاحت کو ظاہر کرتا ہے جو محض بیکار ہے ۔ ثابت ہوا کہ اس بیکار بحث میں پڑنا ہی فضول ہے ۔ اس کے بعد جو لوگ اسم اور «مُسَمَّی» کے فرق پر اپنے دلائل لائے ہیں ، ان کا کہنا ہے محض اسم ہوتا ہے «مُسَمَّی» ہوتا ہی نہیں ۔ جیسے «مَعْدُوم» کا لفظ ۔ کبھی ایک «مُسَمَّی» کے کئی اسم ہوتے ہیں جیسے مترادف کبھی اسم ایک ہوتا ہے اور «مُسَمَّی» کئی ہوتے ہیں جیسے مشترک ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم اور چیز ہے اور «مُسَمَّی» اور چیز ہے یعنی نام الگ ہے ۔ اور نام والا الگ ہے ۔ اور دلیل سنئیے کہتے ہیں اسم تو لفظ ہے دوسرا عرض ہے ۔ «مُسَمَّی» کبھی ممکن یا واجب ذات ہوتی ہے ۔ اور سنئیے اگر اسم ہی کو «مُسَمَّی» مانا جائے تو چاہیئے کہ آگ کا نام لیتے ہی حرارت محسوس ہو اور برف کا نام لیتے ہی ٹھنڈک ۔ جبکہ کوئی عقلمند اس کی تصدیق نہیں کرتا ۔ اور دلیل سنئیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَلِلہِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَیٰ فَادْعُوہُ بِہَا» کہ ’اللہ کے بہت سے بہترین نام ہیں ، تم ان ناموں سے اسے پکارو‘ ۱؎ ۔ (7-الأعراف:180) حدیث شریف ہے کہ ’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں‘ ۲؎ (صحیح مسلم:2677) تو خیال کیجئے کہ نام کس قدر بکثرت ہیں حالانکہ «مُسَمَّی» ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ «وحدہ لاشریک لہ» ہے اسی طرح «اسماء» کو اللہ کی طرف اس آیت میں مضاف کرنا ۔ اور جگہ فرمانا : «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیمِ» ۳؎ (56-الواقعۃ:74) وغیرہ یہ اضافت بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ اسم اور ہو اور «مُسَمَّی» اور کیونکہ اضافت کا مقتضا مغائرت کا ہے ۔ اسی طرح یہ «وَلِلہِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَیٰ فَادْعُوہُ بِہَا» یعنی ’اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو‘ ۴؎ (7-الأعراف:180) یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ نام اور ہے نام والا اور ۔ اب ان کے دلائل بھی سنئیے جو اسم اور «مُسَمَّی» کو ایک ہی بتاتے ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : «تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» ’جلال و اکرام والے تیرے رب کا بابرکت نام ہے‘ ۵؎ (55-الرحمن:78) تو نام برکتوں والا فرمایا حالانکہ خود اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے ۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ اس مقدس ذات کی وجہ سے اس کا نام بھی عظمتوں والا ہے ۔ ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کہے کہ زینب پر طلاق ہے تو طلاق اس کی بیوی جس کا نام زینب ہے ہو جاتی ہے ۔ اگر نام اور نام والے میں فرق ہوتا تو نام پر طلاق پڑتی ، نام والے پر کیسے پڑتی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ اس ذات پر طلاق ہے جس کا نام زینت ہے ۔ تسمیہ کا اسم سے الگ ہونا اس دلیل کی بنا پر ہے کہ تسمیہ کہتے ہیں کسی کا نام مقرر کرنے کو اور ظاہر ہے یہ اور چیز ہے اور نام والا اور چیز ہے ۔ رازی کا قول یہی ہے کہ یہ سب کچھ تو لفظ «باسم» کے متعلق تھا ۔ اب لفظ «اللہ» کے متعلق سنئے ۔ اللہ خاص نام ہے رب تبارک و تعالیٰ کا ۔ کہا جاتا ہے کہ اسم اعظم یہی ہے اس لیے کہ تمام عمدہ صفتوں کے ساتھ ہی موصوف ہوتا ہے ۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «ہُوَ اللہُ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ * ہُوَ اللہُ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْمَلِکُ الْقُدٰوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ سُبْحَانَ اللہِ عَمَّا یُشْرِکُونَ * ہُوَ اللہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَیٰ یُسَبِّحُ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ» ۶؎ (59-الحشر:22-23-24) یعنی ’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے ، جو رحم کرنے والا مہربان ہے ، وہی اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، جو بادشاہ ہے پاک ہے ، سلامتی والا ہے ، امن دینے والا ہے ، محافظ ہے ، غلبہ والا ہے ، زبردست ہے ، بڑائی والا ہے ، وہ ہر شرک سے اور شرک کی چیز سے پاک ہے ۔ وہی اللہ پیدا کرنے والا ، مادہ کو بنانے والا ، صورت بخشنے والا ہے ۔ اس کے لیے بہترین پاکیزہ نام ہیں ، آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں ۔ وہ عزتوں اور حکمتوں والا ہے‘ ۔ ان آیتوں میں تمام نام صفاتی ہیں ، اور لفظ اللہ ہی کی صفت ہیں یعنی اصلی نام «اللہ» ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے ہیں پاکیزہ اور عمدہ عمدہ نام ۔ اللہ تعالٰی نے اپنے تمام (صفاتی) نام خود تجویز فرمائے ہیں پس تم اس کو ان ہی ناموں سے پکارو ۔ اور فرماتا ہے «ادْعُوا اللہَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ أَیًّا مَا تَدْعُوا فَلَہُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَیٰ» الخ یعنی ’اللہ کو پکارو ۔ یا رحمن کو پکارو ، جس نام سے پکارو ، اسی کے پیارے پیارے اور اچھے اچھے نام ہیں‘ ۱؎ (17-الإسراء:110) بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ ایک کم ایک سو جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے} ۲؎ ۔ (صحیح بخاری:7392) ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں ان ناموں کی تفصیل بھی آئی ہے ۳؎ ۔ (سنن ترمذی:3507،قال الشیخ الألبانی:صحیح، ضعیف بسرد الأسماء) اور دونوں کی روایتوں میں الفاظ کی کچھ تبدیلی کچھ کمی زیادتی بھی ہے ۔ رازی نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پانچ ہزار نام ہیں ۔ ایک ہزار تو قرآن شریف اور صحیح حدیث میں ہیں اور ایک ہزار توراۃ میں اور ایک ہزار انجیل میں اور ایک ہزار زبور میں اور ایک ہزار لوح محفوظ میں ۔ اللہ کے مترادف المعنی کوئی نام نہیں «اللہ» ہی وہ نام ہے جو سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے کسی اور کا نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک عرب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا اشتقاق کیا ہے اس کا باب کیا ہے بلکہ ایک بہت بڑی نحویوں کی جماعت کا خیال ہے کہ یہ اسم جامد ہے اور اس کا کوئی اشتقاق ہے ہی نہیں ۔ قرطبی رحمہ اللہ نے علماء کرام کی ایک بڑی جماعت کا یہی مذہب نقل کیا ہے جن میں امام شافعی رحمہ اللہ، امام خطابی رحمہ اللہ، امام الحرمین امام غزالی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں ۔ خلیل اور سیبویہ سے روایت ہے کہ «الف لام» اس میں لازم ہے ۔ امام خطابی رحمہ اللہ نے اس کی ایک دلیل یہ دی ہے کہ «یااللہ» تو کہہ سکتے ہیں مگر «یاالرَّحْمٰنِ» کہتے کسی کو نہیں سنا اگر لفظ «اللہ» میں «الف لام» اصل کلمہ کا نہ ہوتا تو اس پر ندا کا لفظ «یا» داخل نہ ہو سکتا کیونکہ قواعد عربی کے لحاظ سے حرف ندا کا لفظ لام والے اسم پر داخل ہونا جائز نہیں ۔ بعض لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ یہ مشتق ہے اور اس پر روبہ بن عجاج کا ایک شعر دلیل لاتے ہیں جس میں «مَصْدَرِ التَّأَلٰہ» ، کا بیان ہے جس کا ماضی مضارع «أَلِہ» «یَأْلَہُ» ، «إِلَاہَۃً» اور «تَأَلٰہًا» ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ «وَیَذَرَکَ وَإِلَاہَتَکَ» پڑھتے تھے ، مراد اس سے عبادت ہے ۔ یعنی اس کی عبادت کی جاتی ہے اور وہ کسی کی عبادت نہیں کرتا ۔ مجاہد وغیرہ کہتے ہیں ۔ بعض نے اس پر اس آیت سے دلیل پکڑی ہے کہ آیت «وَہُوَ اللہُ فِی السَّمَاوَاتِ وَفِی الْأَرْضِ» ۱؎ (6-الأنعام:3) الخ یعنی ’وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں‘ ۔ اور آیت میں ہے «وَہُوَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ إِلٰہٌ وَفِی الْأَرْضِ إِلٰہٌ» ۲؎ (43-الزخرف:84) الخ یعنی ’وہی ہے جو آسمان میں معبود ہے اور زمین میں معبود ہے‘ ۔ سیبویہ خلیل سے نقل کرتے ہیں کہ اصل میں یہ «إِلَاہٌ» تھا جیسے «فِعَالٍ» پھر ہمزہ کے بدلے «الف و لام» لایا گیا جیسے «النَّاسِ» کہ اس کی اصل «أُنَاسٌ» ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس لفظ کی اصل «إِلَاہٌ» ہے «الف لام» حرف تعظیم کے طور پر لایا گیا ہے ۔ سیبویہ کا بھی پسندیدہ قول یہی ہے ۔ عرب شاعروں کے شعروں میں بھی یہ لفظ ملتا ہے ۔ کسائی اور فرا کہتے ہیں کہ اس کی اصل «الْإِلَہُ» تھی ہمزہ کو حذف کیا اور پہلے «لام» کو دوسرے میں ادغام کیا جیسے کہ آیت «لٰکِنَّا ہُوَ اللہُ رَبِّی وَلَا أُشْرِکُ بِرَبِّی أَحَدًا» ۳؎ (18-الکہف:38) میں «لَکِنَّ أَنَا» کا «لَکِنَّا» ہوا ہے ۔ چنانچہ حسن کی قرأت میں «لَکِنَّ أَنَا» ہی ہے اور اس کا اشتقاق «وَلِہَ» سے ہے اور اس کے معنی «تَحَیَّرَ» ہیں «وَلَہُ» عقل کے چلے جانے کو کہتے ہیں ۔ عربی میں «رَجُلٌ وَالِہٌ» اور «امْرَأَۃٌ وَلْہَی» اور «مَاءٌ مُولَہٌ» اس وقت کہتے ہیں جب وہ جنگل میں بھیج دیا جائے ۔ چونکہ ذات باری تعالیٰ میں اور اس کی صفتوں کی تحقیق میں عقل حیران و پریشان ہو جاتی ہے اس لیے اس پاک ذات کو اللہ کہا جاتا ہے ۔ اس بنا پر اصل میں یہ لفظ «وَلَّاہُ» تھا ۔ «واؤ» کو «ہمزہ» سے بدل دیا گیا جیسے کہ «وِشَاحٌ» اور «وَوِسَادَۃٍ» میں «أَشَاحُ» اور «أَسَادَۃٌ» کہتے ہیں ۔ رازی کہتے ہیں کہ یہ لفظ «أَلِہْتُ إِلَی فُلَانٍ» سے مشتق ہے جو کہ معنی میں «سَکَنْتُ» کے ہے ۔ یعنی میں نے فلاں سے سکون اور راحت حاصل کی ۔ چونکہ عقل کا سکون صرف ذات باری تعالیٰ کے ذکر سے ہے اور روح کی حقیقی خوشی اسی کی معرفت میں ہے اس لیے کہ علی الاطلاق کامل وہی ہے ، اس کے سوا اور کوئی نہیں اسی وجہ سے اللہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے : «اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَـطْمَیِٕنٰ الْقُلُوْبُ» ۴؎ (13-الرعد:18) یعنی ’ایمانداروں کے دل صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہی اطمینان حاصل کرتے ہیں‘ ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ «لَاہَ یَلُوہُ» سے ماخوذ ہے جس کے معنی چھپ جانے اور حجاب کرنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «أَلِہَ الْفَصِیلُ» سے ہے چونکہ بندے اسی کی طرف تضرع اور زاری سے جھکتے ہیں اسی کے دامن رحمت کا پلہ ہر حال میں تھامتے ہیں ، اس لیے اسے اللہ کہا گیا ایک قول یہ بھی ہے کہ عرب «أَلِہَ الرَّجُلُ یَأْلُہُ» اس وقت کہتے ہیں جب کسی اچانک امر سے کوئی گھبرا اٹھے اور دوسرا اسے پناہ دے اور بچا لے چونکہ تمام مخلوق کو ہر مصیبت سے نجات دینے والا اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے ، اس لیے اس کو اللہ کہتے ہیں ۔ جیسے کہ قرآن کریم میں ہے : «وَّہُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ» ۱؎ (23-المؤمنون:89) الخ یعنی ’وہی بچاتا ہے اور اس کے مقابل میں کوئی نہیں بچایا جاتا‘ ۔ «وَہُوَ الْمُنْعِمُ» حقیقی «الْمُنْعِمُ» وہی ہے ، فرماتا ہے «وَمَا بِکُمْ مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنَ اللہِ » ۲؎ (16-النحل:53) الخ یعنی ’تمہارے پاس جنتی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں‘ ، وہی «مُطْعِمُ» ہے ، فرمایا ہے «وَہُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ» ۳؎ (6-الأنعام:14) الخ یعنی ’وہ کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا‘ ۔ وہی «موجد» ہے فرماتا ہے «قُلْ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللہِ » ۴؎ (4-النساء:78) الخ یعنی ’ہر چیز کا وجود اللہ کی طرف سے ہے‘ ۔ رازی کا مختار مذہب یہی ہے کہ لفظ اللہ مشتق نہیں ہے ۔ خلیل ، سیبویہ اکثر اصولیوں اور فقہاء کا یہی قول ہے ، اس کی بہت سی دلیلیں بھی ہیں اگر یہ مشتق ہوتا تو اس کے معنی میں بہت سے افراد کی شرکت ہوتی حالانکہ ایسا نہیں ۔ پھر اس لفظ کو موصوف بنایا جاتا ہے اور بہت سی اس کی صفتیں آتی ہیں جیسے « اللہُ» ، «الرَّحْمَنُ» ، «الرَّحِیمُ» ، «الْمَلِکُ» ، «الْقُدٰوسُ» وغیرہ تو معلوم ہوا کہ یہ مشتق نہیں ۔ قرآن میں ایک جگہ «الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ اللہ» ۱؎ (14-إبراہیم:1-2) الخ جو آتا ہے وہاں یہ «عَطْفِ» بیان ہے ۔ ایک دلیل ہے اس کے مشتق نہ ہونے کی یہ بھی ہے «ہَلْ تَعْلَمُ لَہُ سَمِیًّا» ۲؎ (19-مریم:65) الخ یعنی ’کیا اس کا ہم نام بھی کوئی جانتے ہو ؟‘ لیکن یہ غور طلب ہے «وَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ عبرانی ہے لیکن رازی رحمہ اللہ نے اس قول کو ضعیف کہا ہے اور فی الواقع ضعیف ہے بھی ۔ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مخلوق کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو معرفت الٰہی کے کنارے پر پہنچ گئے دوسرے وہ جو اس سے محروم ہیں جو حیرت کے اندھیروں میں اور جہالت کی پرخار وادیوں میں پڑے ہیں وہ تو عقل کو رو بیٹھے اور روحانی کمالات کو کھو بیٹھے ہیں لیکن جو ساحل معرفت پر پہنچ چکے ہیں جو نورانیت کے وسیع باغوں میں جا ٹھہرے جو کبریائی اور جلال کی وسعت کا اندازہ کر چکے ہیں وہ بھی یہاں تک پہنچ کر حیران و ششدر رہ گئے ہیں ۔ غرض ساری مخلوق اس کی پوری معرفت سے عاجز اور سرگشتہ و حیران ہے ۔ ان معانی کی بنا پر اس پاک ذات کا نام اللہ ہے ۔ ساری مخلوق اس کی محتاج ، اس کے سامنے جھکنے والی اور اس کی تلاش کرنے والی ہے ۔ اس حقیقت کی وجہ سے اسے اللہ کہتے ہیں ۔ جیسا کہ خلیل کا قول ہے عرب کے محاورے میں ہر اونچی اور بلند چیز کو «لَاہً» کہتے ہیں ۔ سورج جب طلوع ہوتا ہے تب بھی وہ کہتے ہیں «الشَّمْسُ لَاہَتْ» چونکہ پروردگار عالم بھی سب سے بلند و بالا ہے اس کو بھی اللہ کہتے ہیں ۔ اور «الْإِلَہُ» کے معنی عبادت کرنے اور «تَأَلَّہَ» کے معنی حکم برداری اور قربانی کرنے کے ہیں اور رب عالم کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کے نام پر قربانیاں کی جاتی ہیں اس لیے اسے اللہ کہتے ہیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں ہے «وَیَذَرک وَإِلَاہَتک» اس کی اصل «الْإِلَہ» ہے پس صرف کلمہ کی جگہ جو ہمزہ ہے وہ حذف کیا گیا ۔ پھر نفس کلمہ کا «لام» زائد «لام» سے جو تعریف کے لیے لایا گیا ہے مل گیا اور پھر ایک کو دوسرے میں مدغم کر دیا تو ایک لازم مشدد رہ گیا اور تعظیماً اللہ کہا گیا ۔ یہ تو تفسیر لفظ «اللہ» کی تھی ۔ اَلرَّحمن اور الرحیم کے معنی «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» کا بیان آئے گا یہ دونوں نام رحمت سے مشتق ہیں ۔ دونوں میں مبالغہ ہے «الرَّحْمٰنِ» میں «الرَّحِیمِ» سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ علامہ ابن جریر رحمہ اللہ کے قول سے معلوم ہوتا ہے وہ بھی ان معنوں سے متفق ہیں گویا اس پر اتفاق ہے ۔ بعض سلف کی تفسیروں سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے ان معنوں پر مبنی عیسیٰ علیہ السلام کا قول بھی پہلے گزر چکا ہے کہ «الرَّحْمٰنِ» سے مراد دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا اور «الرَّحِیمِ» سے مراد آخرت میں رحم کرنے والا ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ «رحمٰن» مشتق نہیں ہے اگر یہ اس طرح ہوتا تو مرحوم کے ساتھ ملتا ۔ حالانکہ قرآن میں «بِالْمُؤْمِنِینَ رَحِیمًا» ۱؎ (33-الأحزاب:43) الخ آیا ہے ۔ مبرد کہتے ہیں «رحمٰن» عبرانی نام ہے عربی نہیں ۔ ابواسحاق زجاج معانی القرآن میں کہتے ہیں کہ احمد بن یحییٰ کا قول ہے کہ «رحیم» عربی لفظ ہے اور «رحمٰن» عبرانی ہے دونوں کو جمع کر دیا گیا ہے ۔ لیکن ابواسحٰق فرماتے ہیں ” اس قول کو دل نہیں مانتا “ ۔ قرطبی فرماتے ہیں اس لفظ کے مشتق ہونے کی یہ دلیل ہے کہ ترمذی کی صحیح حدیث ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں رحمٰن ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اپنے نام میں سے ہی اس کا نام مشتق کیا ۔ اس کے ملانے والے کو میں ملاؤں گا اور اس کے توڑنے والے کو کاٹ دوں گا} ۲؎ (سنن ترمذی:1908،قال الشیخ الألبانی:صحیح) اس صریح حدیث کے ہوتے ہوئے مخالفت اور انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ رہا کفار عرب کا اس نام سے انکار کرنا یہ محض ان کی جہالت کا ایک کرشمہ تھا ۔ قرطبی کہتے ہیں کہ ” «رحمٰن» اور «رحیم» کے ایک ہی معنی ہیں اور جیسے «نَدْمَانَ» اور «نَدِیمٍ» “ ابوعبید کا بھی یہی خیال ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ «فَعْلَانَ فَعِیلٍ» کی طرح نہیں ۔ «فَعْلَانَ» میں مبالغہ ضروری ہوتا ہے جیسے «غَضْبَانُ» اسی شخص کو کہہ سکتے ہیں ۔ جو بہت ہی غصہ والا ہو اور «فَعِیلٌ» صرف فاعل اور صرف مفعول کے لیے بھی آتا ہے ۔ جو مبالغہ سے خالی ہوتا ہے ۔ ابوعلی فارسی کہتے ہیں کہ ” «رحمٰن» عام اسم ہے جو ہر قسم کی رحمتوں کو شامل ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ «رحیم» باعتبار مومنوں کے ہے فرمایا ہے «وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا» ۱؎ (33-الأحزاب:43) ’مومنون کے ساتھ رحیم ہے‘ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” یہ دونوں رحمت و رحم والے ہیں ، ایک میں دوسرے سے زیادہ رحمت و رحم ہے ۔ “ ۱؎ (تفسیر قرطبی:105/1) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں لفظ «ارق» ہے اس کے معنی خطابی وغیرہ «أَرَقٰ» کرتے ہیں جیسے کہ حدیث میں ہے کہ {اللہ تعالیٰ «رفق» یعنی شفیق اور مہربانی والا ہے وہ ہر کام میں نرمی اور آسانی کو پسند کرتا ہے وہ دوسروں پر نرمی اور آسانی کرنے والے پر وہ نعمتیں مرحمت فرماتا ہے جو سختی کرنے والے پر عطا نہیں فرماتا} ۲؎ ۔ (صحیح مسلم:2593) ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «رحمٰن» اسے کہتے ہیں کہ جب اس سے جو مانگا جائے عطا فرمائے اور «رحیم» وہ ہے کہ جب اس سے نہ مانگا جائے وہ غضبناک ہو ۔ “ ترمذی کی حدیث میں ہے {جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوتا ہے} ۳؎ ۔ (سنن ترمذی:3373،قال الشیخ الألبانی:حسن) بعض شاعروں کا قول ہے : « اللہُ یَغْضَبُ إِنْ تَرَکْت سُؤَالَہُ … وَبُنَیٰ آدَمَ حِینَ یُسْأَلُ یَغْضَبُ» یعنی اللہ تعالیٰ سے نہ مانگو تو وہ ناراض ہوتا ہے اور بنی آدم سے مانگو تو وہ بگڑتے ہیں ۔ عزرمی فرماتے ہیں کہ «رحمٰن» کے معنی تمام مخلوق پر رحم کرنے والا اور «رحیم» کے معنی مومنوں پر رحم کرنے والا ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:127/1) دیکھئیے قرآن کریم کی دو آیتوں «ثُمَّ اسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ» ۲؎ (25-الفرقان:59) اور «الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ» ۳؎ (20-طہ:5) میں «اسْتَوَیٰ» کے ساتھ «رحمٰن» کا لفظ ذکر کیا تاکہ تمام مخلوق کو یہ لفظ اپنے عام رحم و کرم کے معنی سے شامل ہو سکے اور مومنوں کے ذکر کے ساتھ لفظ «رحیم» فرمایا :«وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا» ۴؎ (33-الأحزاب:43) الخ پس معلوم ہوا کہ «رحمٰن» میں مبالغہ بہ نسبت «رحیم» کے بہت زیادہ ہے ۔ لیکن حدیث کی ایک دعا میں «رَحْمَنَ الدٰنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَرَحِیمَہُمَاا» ۵؎ (سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:5287،موضوع) بھی آیا ہے ۔ «رحمٰن» یہ نام بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ، اس کے سوا کسی دوسرے کا نام نہیں ۔ جیسے کہ فرمان ہے کہ «اللہ» کو پکارو یا «رحمٰن» کو جس نام سے چاہو اسے پکارو اس کے بہت اچھے اچھے نام ہیں ۔ ایک اور آیت میں ہے : «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمٰنِ آلِہَۃً یُعْبَدُونَ» ۶؎ (43-الزخرف:45) یعنی ’ان سے پوچھ لو کہ تجھ سے پہلے ہم نے جو رسول بھیجے تھے کیا انہوں نے «رحمٰن» کے سوا کسی کو معبود کہا تھا کہ ان کی عبادت کی جائے‘ ۔ جب مسیلمہ ، کذاب نے بڑھ چڑھ کر دعوے شروع کئے اور اپنا نام «رحمٰن العیامہ» رکھا تو پروردگار نے اسے بے انتہا رسوا اور برباد کیا ، وہ جھوٹ اور کذب کی علامت مشہور ہو گیا ۔ آج اسے مسیلمہ کذاب کہا جاتا ہے اور ہر جھوٹے دعویدار کو اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے ۔ ہر دیہاتی اور شہری ہر کچے پکے گھر والا اسے بخوبی جانتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ «رحیم» میں «رحمٰن» سے زیادہ مبالغہ ہے اس لیے کہ اس لفظ کے ساتھ اگلے لفظ کی تاکید کی گئی ہے اور تاکید بہ نسبت اس کے کہ جس کی تاکید جائے زیادہ قوی ہوتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تاکید ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو صفت ہے اور صفت میں یہ قاعدہ نہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا جس نام میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ، سب سے پہلے اس کی صفت «رحمٰن» بیان کی گئی اور یہ نام رکھنا بھی دوسروں کو ممنوع ہے جیسے فرما دیا کہ «اللہ» کو یا «رحمٰن» کو پکارو جس نام سے چاہو پکارو اس کے لیے اسماء حسنیٰ بہت سارے ہیں ۔ مسیلمہ نے بدترین جرأت کی لیکن برباد ہوا اور اس کے گمراہ ساتھیوں کے سوا اس کی کسی قدر کسی کے دل میں نہ آئی ۔ «رحیم» کے وصف کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو بھی موصوف کیا ہے ، فرماتا ہے : «لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتٰمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُم بِالْمُؤْمِنِینَ رَءُوفٌ رَّحِیمٌ» ۷؎ (9-التوبۃ:128) اس آیت میں اپنے نبی کو رحیم کہا ، اسی طرح اپنے بعض ایسے ناموں سے دوسروں کو بھی اس نے یاد کیا ہے ۔ جیسے آیت «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نٰطْفَۃٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیہِ فَجَعَلْنَاہُ سَمِیعًا بَصِیرًا» ۸؎ (76-الإنسان:2) میں انسان کو «سمیع» اور «بصیر» کہا ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض نام تو ایسے ہیں کہ دوسروں پر بھی ہم معنی ہونے کا اطلاق ہو سکتا ہے اور بعض ایسے ہیں کہ نہیں ہو سکتا جیسے «اللہ» اور «رحمٰن» ، «خالق» اور «رزاق» وغیرہ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا نام اللہ پھر اس کی صفت «رحمٰن» سے کی ۔ اس لیے کہ «رحیم» کی نسبت یہ زیادہ خاص ہے اور زیادہ مشہور ہے ۔ قاعدہ ہے کہ اول سب سے زیادہ بزرگ نام لیا جاتا ہے ، اس لیے سب سے پہلے سب سے زیادہ خاص نام لیا گیا پھر اس سے کم ، پھر اس سے کم ، اگر کہا جائے کہ جب «رحمٰن» میں «رحیم» سے زیادہ مبالغہ موجود ہے پھر اسی پر اکتفا کیوں نہ کیا گیا ؟ تو اس کے جواب میں عطا خراسانی کا یہ قول پیش کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ کافروں نے «رحمٰن» کا نام بھی غیروں کا رکھ لیا تھا اس لیے «رحیم» کا لفظ بھی ساتھ لگایا گیا تاکہ کسی قسم کا وہم ہی نہ رہے ۔ «رحمٰن و رحیم» صرف اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے ۔ ابن جریر نے تاہم اس قول کی تصدیق کی ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے عرب «رحمٰن» سے واقف ہی نہ تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیت «قُلِ ادْعُوا اللہَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ أَیًّا مَا تَدْعُوا فَلَہُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَیٰ» ۱؎ (17-الإسراء:110) نازل فرما کر ان کی تردید کی ۔ حدیبیہ والے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» لکھو تو کفار نے کہا تھا کہ ہم «رحمٰن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے ۲؎ ۔ (صحیح بخاری:حدیث2731) بخاری میں یہ روایت موجود ہے ۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم «رحمٰن یمامہ» کو جانتے ہیں کسی اور «رحمٰن» کو نہیں جانتے ۔ اسی طرح قرآن پاک میں ہے «وَإِذَا قِیلَ لَہُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَہُمْ نُفُورًا» ۳؎ (25-الفرقان:60) یعنی ’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ «رحمٰن» کے سامنے سجدہ کرو تو وہ حیران زدہ ہو کر جواب دیتے ہیں کہ «رحمٰن» کون ہے ؟ جسے ہم تیرے قول کی وجہ سے سجدہ کریں‘ ۔ درحقیقت یہ بدکار لوگ صرف عناد ، تکبر ، سرکشی اور دشمنی کی بنا پر «رحمٰن» سے انکار کرتے تھے نہ کہ وہ اس نام سے ناآشنا تھے ۔ اس لیے کہ جاہلیت کے زمانے کے پرانے اشعار میں بھی اللہ تعالیٰ کا نام «رحمٰن» موجود ہے جو انہی کے شاعروں کے شعر ہیں ۔ سلامہ اور دوسرے شعراء کے اشعار میں ملاحظہ ہو ۔ تفسیر ابن جریر میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ «رحمٰن» «فعلان» کے وزن پر رحمت سے ماخوذ ہے اور کلام عرب سے ہے ۔ وہ اللہ رفیق اور رقیق ہے جس پر رحم کرنا چاہے اور جس سے غصے ہو اس سے بہت دور اور اس پر بہت سخت گیر بھی ہے اسی طرح اس کے تمام نام ہیں ۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رحمٰن» کا نام دوسروں کے لیے منع ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ کا نام ہے لوگ اس نام پر کوئی حق نہیں رکھتے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا والی حدیث جس میں کہ {ہر آیت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرا کرتے تھے} ۴؎ ۔ (سنن ابوداود:4001،قال الشیخ الألبانی:صحیح) پہلے گزر چکی ہے ۔ اور ایک جماعت اسی طرح «بِسْمِ اللہِ » کو آیت قرار دے کر آیت «الْحَمْدُ» کو الگ پڑھتی ہے اور بعض ملا کر پڑھتے ہیں ۔ «میم» کو دو ساکن جمع ہو جانے کی وجہ سے زیر دیتے ہیں ۔ جمہور کا بھی یہی قول ہے ۔ کوفی کہتے ہیں کہ بعض عرب «میم» کے زیر سے پڑھتے ہیں ، ہمزہ کی حرکت زبر «میم» کو دیتے ہیں ۔ جیسے آیت «الم» * « اللہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیٰ الْقَیٰومُ» ۵؎ (3-آل عمران:1-2) ابن عطیہ کہتے ہیں کہ زبر کی قرأت کسی سے بھی میرے خیال میں مروی نہیں ۔ آیت «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» کی تفسیر ختم ہوئی ۔ اب آگے سنئیے ۔

الحمد اللہ کی تفسیر ساتوں قاری «الْحَمْدُ» کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور «الْحَمْدُ لِلہِ» کو مبتدا خبر مانتے ہیں ۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور روبہ بن عجاج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «دال» پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے ۔ ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ «الْحَمْدُ» کی «دال» کو اور «اللہ» کے پہلے «لام» دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس «لام» کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے ، مگر شاذ ہے ۔ حسن رحمہ اللہ اور زید بن علی رحمہ اللہ ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور «لام» کے تابع «دال» کو کرتے ہیں ۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «الْحَمْدُ لِلہِ» کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں ، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو اس وجہ سے کہ تمام نعمتیں جنہیں ہم گن بھی نہیں سکتے ، اس مالک کے سوا اور کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اسی کی طرف سے ہیں ۔ اسی نے اپنی اطاعت کرنے کے تمام اساب ہمیں عطا فرمائے ۔ اسی نے اپنے فرائض پورے کرنے کے لیے تمام جسمانی نعمتیں ہمیں بخشیں ۔ پھر بےشمار دنیاوی نعمتیں اور زندگی کی تمام ضروریات ہمارے کسی حق بغیر ہمیں بن مانگے بخشیں ۔ اس کی لازوال نعمتیں ، اس کے تیار کردہ پاکیزہ مقام جنت کو ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں ؟ یہ بھی اس نے ہمیں سکھا دیا پس ہم تو کہتے ہیں کہ اول آخر اسی مالک کی پاک ذات ہر طرح کی تعریف اور حمد و شکر کے لائق ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:125/1) «الْحَمْدُ لِلہِ» یہ ثنا کا کلمہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ثنا و خود آپ کی ہے اور اسی ضمن میں گویا یہ فرما دیا ہے کہ تم کہو «الْحَمْدُ لِلہِ» بعض نے کہا کہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کہنا اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں سے اس کی ثنا کرنا ہے ۔ اور «الشٰکْرُ لِلہِ» کہنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:138/1) لیکن یہ قول ٹھیک نہیں ۔ اس لیے کہ عربی زبان کو جاننے والے علماء کا اتفاق ہے ۔ کہ شکر کی جگہ حمد کا لفظ اور حمد کی جگہ شکر کا لفظ بولتے ہیں ۔ جعفر صادق رحمہ اللہ ، ابن عطا صوفی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر شکر کرنے والے کا کلمہ «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے ۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کو معتبر کرنے کے لیے یہ دلیل بھی بیان کی ہے کہ اگر کوئی «الْحَمْدُ لِلہِ شُکْرًا» کہے تو جائز ہے ۔ دراصل علامہ ابن جریر رحمہ اللہ کے اس دعویٰ میں اختلاف ہے ، پچھلے علماء میں مشہور ہے کہ «حَمْدَ» کہتے ہیں زبانی تعریف بیان کرنے کو خواہ جس کی حمد کی جاتی ہو اس کی لازم صفتوں پر ہو یا متعدی صفتوں پر اور شکر صرف متعدی صفتوں پر ہوتا ہے اور وہ دل زبان اور جملہ ارکان سے ہوتا ہے ۔ عرب شاعروں کے اشعار بھی اس پر دلیل ہیں ۔ ہاں اس میں اختلاف ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ عام ہے یا «شٰکْر» کا اور صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عموم اس حیثیت سے خصوص ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ جس پر واقع ہو وہ عام طور پر «شٰکْر» کے معنوں میں آتا ہے ۔ اس لیے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں اوصاف پر آتا ہے شہ سواری اور کرم دونوں پر «حَمِدْتُہُ» کہہ سکتے ہیں لیکن اس حیثیت سے وہ صرف زبان سے ادا ہو سکتا ہے یہ لفظ خاص اور «شٰکْر» کا لفظ عام ہے کیونکہ وہ قول ، فعل اور نیت تینوں پر بولا جاتا ہے اور صرف متعدی صفتوں پر بولے جانے کے اعتبار سے «شٰکْر» کا لفظ خاص ہے ۔ شہ سواری کے حصول پر «شَکَرْتُہُ» نہیں کہہ سکتے البتہ «شَکَرْتُہُ عَلَی کَرَمِہِ وَإِحْسَانِہِ إِلَیَّ» کہہ سکتے ہیں ۔ یہ تھا خلاصہ متاخرین کے قول کا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» ابونصر اسماعیل بن حماد جوہری کہتے ہیں «حمد» مقابل ہے «ذم» کے ۔ لہٰذا یوں کہتے ہیں کہ «حَمِدْتُ الرَّجُلَ أَحْمَدُہُ حَمْدًا وَمَحْمَدَۃً فَہُوَ حَمِیدٌ وَمَحْمُودٌ» تحمید میں «حمد» سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ «حمد» «شکر» سے عام ہے ۔ کسی محسن کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کی ثنا کرنے کو «شکر» کہتے ہیں ۔ عربی زبان میں «شَکَرْتُہُ» اور «شَکَرْتُ لَہُ» دونوں طرح کہتے ہیں لیکن «لام» کے ساتھ کہنا زیادہ فصیح ہے ۔ مدح کا لفظ «حمد» سے بھی زیادہ عام ہے اس لیے کہ زندہ مردہ بلکہ جمادات پر بھی مدح کا لفظ بول سکتے ہیں ۔ کھانے اور مکان کی اور ایسی اور چیزوں کی بھی مدح کی جاتی ہے احسان سے پہلے ، احسان کے بعد ، لازم صفتوں پر ، متعدی صفتوں پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو اس کا عام ہونا ثابت ہوا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» حمد کی تفسیر اقوال سلف سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ «سُبْحَانَ اللہِ » اور «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» اور بعض روایتوں میں ہے کہ « اللہُ أَکْبَرُ» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کا کیا مطلب ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرما لیا ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کا کہنا اللہ کو بھلا لگتا ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن ابی حاتم:15/1:ضعیف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ کلمہ شکر ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میرا شکر کیا ۲؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:151) اس کلمہ میں شکر کے علاوہ اس کی نعمتوں ، ہدایتوں اور احسان وغیرہ کا اقرار بھی ہے ۔ کعب احبار رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنا ہے ۔ ضحاک کہتے ہیں یہ اللہ کی چادر ہے ۔ ایک حدیث میں بھی ایسا ہی ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» کہہ لو گے تو تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر لو گے اب اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا} ۳؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:152:ضعیف) {اسود بن سریع ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ میں نے ذات باری تعالیٰ کی حمد میں چند اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو سناؤں فرمایا : اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد بہت پسند ہے} ۴؎ ۔ (مسند احمد:435/3:حسن) ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل ذکر «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے } ۱؎ ۔ (سنن ترمذی:3383،قال الشیخ الألبانی:حسن) امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں ۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے کہ {جس بندے کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت دی اور وہ اس پر «الْحَمْدُ لِلہِ» کہے تو دی ہوئی نعمت لے لی ہوئی سے افضل ہو گی} ۲؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:3805،قال الشیخ الألبانی:حسن) فرماتے ہیں اگر میری امت میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ تمام دنیا دے دے اور وہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کہے تو یہ کلمہ ساری دنیا سے افضل ہو گا ۔ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا دے دینا اتنی بڑی نعمت نہیں جتنی «الْحَمْدُ لِلہِ» کہنے کی توفیق دینا ہے اس لیے کہ دنیا تو فانی ہے اور اس کلمہ کا ثواب باقی ہی باقی ہے ۱؎ ۔ (سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:876،ضعیف) جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِینَۃُ الْحَیَاۃِ الدٰنْیَا وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ أَمَلًا» ۲؎ (18-الکہف:46) الخ یعنی ’مال اور اولاد دنیا کی زینت ہے اور نیک اعمال ہمیشہ باقی رہنے والے ، ثواب والے اور نیک امید والے ہیں‘ ۔ ابن ماجہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص نے ایک مرتبہ کہا «یَا رَبِّ ، لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلَالِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ» تو فرشتے گھبرا گئے کہ ہم اس کا کتنا اجر لکھیں ۔ آخر اللہ تعالیٰ سے انہوں نے عرض کی کہ تیرے ایک بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے اسے کس طرح لکھیں ، پروردگار نے باوجود جاننے کے ان سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس نے یہ کلمہ کہا ہے ، فرمایا : ”تم یونہی اسے لکھ لو میں اس اسے اپنی ملاقات کے وقت اس کا اجر دے دوں گا“} ۳؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:3801،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) قرطبی رحمہ اللہ ایک جماعت علماء سے نقل کرتے ہیں کہ «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» سے بھی «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» افضل ہے کیونکہ اس میں توحید اور حمد دونوں ہیں ۔ اور علماء کا خیال ہے کہ «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» افضل ہے اس لیے کہ ایمان و کفر میں یہی فرق کرتا ہے ، اس کے کہلوانے کے لیے کفار سے لڑائیاں کی جاتی ہیں ۔ جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم حدیث میں ہے ۱؎ (صحیح بخاری:1399) ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ {جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کرام نے کہا ہے ان میں سب سے افضل «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ» ہے} ۲؎ ۔ (سنن ترمذی:3585،قال الشیخ الألبانی:حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ {افضل ذکر «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے} ۳؎ ۔ (سنن ترمذی:3383،قال الشیخ الألبانی:حسن) ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ۔ الحمد میں «الف» «لام» استغراق کا ہے یعنی حمد کی تمام تر قسمیں سب کی سب صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت ہیں ۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ باری تعالیٰ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور تمام ملک ہے ۔ تیرے ہی ہاتھ تمام بھلائیاں ہیں اور تمام کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں ۱؎ ۔ (مسند احمد:346/5:ضعیف) «رب» کہتے ہیں «مَالِکُ» اور «مُتَصَرِّفُ» کو لغت میں اس کا اطلاق سردار اور اصلاح کے لیے تبدیلیاں کرنے والے پر بھی ہوتا ہے اور ان سب معانی کے اعتبار سے ذات باری تعالیٰ کے لیے یہ خوب جچتا ہے ۔ «رب» کا لفظ بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے پر نہیں کہا جا سکتا ہاں اضافت کے ساتھ ہو تو اور بات ہے جیسے «رَبٰ الدَّارِ» یعنی گھر والا وغیرہ ۔ بعض کا تو قول ہے کہ اسم اعظم یہی ہے ۔ عالمین سے مراد «الْعَالَمِینَ» جمع ہے «عَالَمٍ» کی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق کو «عَالَمٍ» کہتے ہیں ۔ لفظ «عَالَمٍ» بھی جمع ہے اور اس کا واحد لفظ ہے ہی نہیں ۔ آسمان کی مخلوق خشکی اور تری کی مخلوقات کو بھی «عَوَالِمُ» یعنی کئی «عَالَمٍ» کہتے ہیں ۔ اسی طرح ایک ایک زمانے ، ایک ایک وقت کو بھی «عَالَمٍ» کہا جاتا ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد کل مخلوق ہے خواہ آسمانوں کی ہو یا زمینوں کی یا ان کے درمیان کی ، خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا نہ ہو ۔ «علی ہذا القیاس» اس سے جنات اور انسان بھی مراد لیے گئے ہیں ۔ سعید بن جیر مجاہد اور ابن جریح رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہ مروی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی غیر معتبر سند سے یہی منقول ہے اس قول کی دلیل قرآن کی آیت «لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا» ۱؎ (25-الفرقان:1) بھی بیان کی جاتی ہے یعنی تاکہ وہ «عَالَمِینَ» یعنی جن اور انس کے لیے ڈرانے والا ہو جائے ۔ فراء اور ابوعبید کا قول ہے کہ سمجھدار کو عالم کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا انسان ، جنات ، فرشتے ، شیاطین کو عالم کہا جائے گا ۔ جانوروں کو نہیں کہا جائے گا ۔ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ ، ابو محیص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر روح والی چیز کو عالم کہا جاتا ہے ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ۔ ہر قسم کو ایک عالم کہتے ہیں مروان بن محمد عرف جعد جن کا لقب حمار تھا جو بنوامیہ میں سے اپنے زمانے کے خلیفہ تھے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سترہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں ۔ آسمانوں والے ایک عالم ، زمینوں والے سب ایک عالم اور باقی کو اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کو ان کا علم نہیں ۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کل ایک عالم ہیں ، سارے جنات کا ایک عالم ہے اور ان کے سوا اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار عالم اور ہیں ۔ فرشتے زمین پر ہیں اور زمین کے چار کونے ہیں ، ہر کونے میں ساڑھے تین ہزار عالم ہیں ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ یہ قول بالکل غریب ہے اور ایسی باتیں جب تک کسی صحیح دلیل سے ثابت نہ ہوں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک ہزار امتیں ہیں ، چھ سو تری میں اور چار سو خشکی میں ۔ سعید بن مسیب سے یہ بھی مروی ہے ۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک سال ٹڈیاں نہ نظر آئیں بلکہ تلاش کرنے کے باوجود پتہ نہ چلا ۔ آپ غمگین ہو گئے یمن ، شام اور عراق کی طرف سوار دوڑائے کہ کہیں بھی ٹڈیاں نظر آتی ہیں یا نہیں تو یمن والے سوار تھوڑی سی ٹڈیاں لے کر آئے اور امیر المؤمنین کے سامنے پیش کیں آپ نے انہیں دیکھ کر تکبیر کہی اور فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں ان میں سے سب سے پہلے جو امت ہلاک ہو گی وہ ٹڈیاں ہوں گی بس ان کی ہلاکت کے بعد پے در پے اور سب امتیں ہلاک ہو جائیں گی جس طرح کہ تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے اور ایک کے بعد ایک سب موتی جھڑ جاتے ہیں ۱؎ ۔ (مجمع الزوائد:322/7:باطل موضوع) اس حدیث کے راوی محمد بن عیسیٰ ہلالی ضعیف ہیں ۔ سعید بن میب رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے ۔ وہب بن منبہ فرماتے ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں ، دنیا کی ساری کی ساری مخلوق ان میں سے ایک عالم ہے ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چالیس ہزار عالم ہیں ساری دنیا ان میں سے ایک عالم ہے ۔ زجاج کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا آخرت میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ سب عالم ہے ۔ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے اس لیے کہ یہ تمام عالمین پر مشتمل لفظ ہے ۔ جیسے فرعون کے اس سوال کے جواب میں رب العالمین کون ہے ؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «رَبٰ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا» ۱؎ (26-الشعراء:23) ”آسمانوں زمینوں اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب“ ۔ «عالم» کا لفظ علامت سے مشتق ہے اس لیے کہ «عالم» یعنی مخلوق اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے پر نشان اور اس کی وحدانیت پر علامت ہے ۲؎ ۔ (تفسیر قرطبی:139/1) جیسے کہ ابن معتز شاعر کا قول ہے ۔ «فَیَا عَجَبًا کَیْفَ یُعْصَی الْإِلَہُ … أَمْ کَیْفَ یَجْحَدُہُ الْجَاحِدُ … وَفِی کُلِّ شَیْءٍ لَہُ آیَۃً … تَدُلٰ عَلَی أَنَّہُ وَاحِدُ» یعنی تعجب ہے کس طرح اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے اور کس طرح اس سے انکار کیا جاتا ہے حالانکہ ہر چیز میں نشانی ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے «الْحَمْدُ» کے بعد اب «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» کی تفسیر سنئے ۔

بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «رَبِّ الْعَالَمِینَ» کے وصف کے بعد آیت «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے ۔ جیسے فرمایا : «نَبِّئْ عِبَادِی أَنِّی أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ» ۱؎ (15-الحجر:49) الخ یعنی ’میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی درد ناک عذاب ہیں‘ ۔ اور فرمایا «إِنَّ رَبَّکَ سَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ» ۲؎ (6-الأنعام:165) الخ یعنی ’تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے‘ ۔ «رب» کے لفظ میں ڈراوا ہے اور «رحمن» اور «رحیم» کے لفظ میں امید ہے ۔ صحیح مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا وقف ہوتا [تو اس وقت] اس کے دل سے جنت کی طمع ہٹ جاتی اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں کو پوری طرح جان لیتا تو کبھی ناامید نہ ہوتا“} ۳؎ ۔ (صحیح مسلم:2755)

حقیقی وارث مالک کون ہے؟ بعض قاریوں نے «مَلِکِ» پڑھا ہے اور باقی سب نے «مَالِکِ» اور دونوں قراتیں صحیح اور متواتر ہیں اور سات قراتوں میں سے ہیں اور «مَالِکِ» کے «لام» کے زیر اور اس کے سکون کے ساتھ ۔ اور «مَلِیکٌ» اور «مَلَکِی» بھی پڑھا گیا ہے پہلے کی دونوں قراتیں معانی کی رو ترجیح ہیں اور دونوں صحیح ہیں اور اچھی بھی ۔ زمخشری نے «مَلِکِ» کو ترجیح دی ہے اس لیے کہ حرمین والوں کی یہ قرأت ہے ۔ اور قرآن میں بھی «لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ» ۱؎ (40-غافر:16) اور «قَوْلُہُ الْحَقٰ وَلَہُ الْمُلْکُ» ۲؎ (6-الأنعام:73) ہے ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی حکایت بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے «مَلِکِ» پڑھا اس بنا پر کہ «فِعْلٌ» اور «فَاعِلٌ» اور «مَفْعُولٌ» آتا ہے لیکن یہ شاذ اور بےحد غریب ہے ۔ ابوبکر بن داؤد رحمہ اللہ نے اس بارے میں ایک غریب روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تینوں خلفاء اور معاویہ رضی اللہ عنہم اور ان کے لڑکے «مَالِکِ» پڑھتے تھے ۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مروان نے «مَالِکِ» پڑھا ۔ میں کہتا ہوں مروان کو اپنی اس قرأت کی صحت کا علم تھا راوی راوی حدیث ابن شہاب رحمہ اللہ کو علم نہ تھا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» ابن مردویہ نے کئی سندوں سے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «مَالِکِ» پڑھتے تھے ۔ «مَالِکِ» کا لفظ «مَلِکِ» سے ماخوذ ہے جیسے کہ قرآن میں ہے : «إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَیْہَا وَإِلَیْنَا یُرْجَعُونَ» ۱؎ (19-مریم:40) الخ یعنی ’زمین اور اس کے اوپر کی تمام مخلوق کے مالک ہم ہی ہیں اور ہماری ہی طرف سب لوٹا کر لائے جائیں گے‘ ۔ اور فرمایا : «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ * مَلِکِ النَّاسِ» ۲؎ (114-الناس:1-2) الخ یعنی ’کہہ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب اور لوگوں کے مالک کی‘ ۔ اور «مَلِکِ» کا لفظ «مُلْکُ» سے ماخوذ ہے ، جیسے فرمایا : «لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ» ۳؎ (40-غافر:16) الخ یعنی ’آج ملک کس کا ہے صرف اللہ واحد غلبہ والے کا‘ ۔ اور فرمایا : «قَوْلُہُ الْحَقٰ وَلَہُ الْمُلْکُ» ۱؎ (6-الأنعام:73) الخ یعنی ’اسی کا فرمان ہے اور اسی کا سب ملک ہے‘ ۔ اور فرمایا : «الْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ الْحَقٰ لِلرَّحْمٰنِ وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْکَافِرِینَ عَسِیرًا» ۲؎ (25-الفرقان:26) یعنی ’آج ملک رحمن ہی کا ہے اور آج کا دن کافروں پر بہت سخت ہے‘ ۔ اس فرمان میں قیامت کے دن ساتھ ملکیت کی تخصیص کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس لیے کہ پہلے اپنا وصف «رَبٰ الْعَالَمِینَ» ہونا بیان کر چکا ہے دنیا اور آخرت دونوں کو شامل ہے ۔ قیامت کے دن کے ساتھ اس کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس دن تو کوئی ملکیت کا دعویدار بھی نہ ہو گا ۔ بلکہ بغیر اس حقیقی مالک کی اجازت کے زبان تک نہ ہلا سکے گا ۔ جیسے فرمایا : «یَوْمَ یَقُومُ الرٰوحُ وَالْمَلَائِکَۃُ صَفًّا لَا یَتَکَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۳؎ (78-النبأ:38) یعنی ’جس دن روح القدس اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی کلام نہ کر سکے گا ۔ یہاں تک کہ رحمن اسے اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا‘ ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے : «وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا ہَمْسًا» ۴؎ (20-طہ:108) الخ یعنی ’سب آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوں گی اور گنگناہٹ کے سوا کچھ نہ سنائی دے گا‘ ، اور فرمایا : «یَوْمَ یَأْتِ لَا تَکَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِہِ فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیدٌ» ۵؎ (11-ہود:105) یعنی ’جب قیامت آئے گی اس دن بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت کے کوئی شخص نہ بول سکے گا ۔ بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض سعادت مند‘ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دن اس کی بادشاہت میں اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہو گا جیسے کہ دنیا میں مجازاً تھے ۔ «یَوْمِ الدِّینِ» سے مراد مخلوق کے حساب کا یعنی قیامت کا دن ہے جس دن تمام بھلے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ہاں اگر رب کسی برائی سے درگزر کر لے یہ اس کا اختیاری امر ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین اور سلف صالحین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے ۔ بعض سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرنے پر قادر ہے ۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ لیکن بظاہر ان دونوں اقوال میں کوئی تضاد نہیں ، ہر ایک قول کا قائل دوسرے کے قول کی تصدیق کرتا ہے ہاں پہلا قول مطلب پر زیادہ دلالت کرتا ہے ۔ جیسے کہ فرمان ہے : «لْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ الْحَقٰ لِلرَّحْمٰنِ» ۱؎ (25-الفرقان:26) الخ اور دوسرا قول اس آیت کے مشابہ ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : «وَیَوْمَ یَقُولُ کُنْ فَیَکُونُ» ۲؎ (6-الأنعام:73) الخ یعنی ’جس دن کہے گا ”ہو جا“ بس اسی وقت ”ہو جائے گا“ ‘ ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ جیسے فرمایا : «ہُوَ اللہُ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْمَلِکُ الْقُدٰوسُ السَّلَامُ» ۱؎ (59-الحشر:23) صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بدترین نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے حقیقی بادشاہ اللہ کے سوا کوئی نہیں“} ۲؎ ۔ (صحیح بخاری:6205) ایک اور حدیث میں ہے کہ {اللہ تعالیٰ زمین کو قبضہ میں لے لے گا اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں کہاں گئے زمین کے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے} ۳؎ (صحیح بخاری:4812) قرآن عظیم میں ہے «لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ» الخ یعنی ’کس کی ہے آج بادشاہی ؟ فقط اللہ اکیلے غلبہ والے کی‘ اور کسی کو «مَلِکِ» کہہ دینا یہ صرف مجازاً ہے ۔ جیسے کہ قرآن میں طالوت کو «مَلِکِ» کہا گیا اور «وَکَانَ وَرَاءَہُمْ مَلِکٌ» ۴؎ (18-الکہف:79) کا لفظ آیا ۔ اور بخاری مسلم میں «مُلُوکِ» کا لفظ آیا ہے ۵؎ (صحیح مسلم:1912) اور قرآن کی آیت میں «إِذْ جَعَلَ فِیکُمْ أَنْبِیَاءَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوکًا» ۶؎ (5-المائدۃ:20) الخ یعنی ’تم میں انبیاء کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا‘ ، آیا ہے ۔ دین کے معنی بدلے جزا اور حساب کے ہیں ۔ جیسے قرآن پاک میں ہے : «یَوْمَئِذٍ یُوَفِّیہِمُ اللہُ دِینَہُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُونَ» ۷؎ (24-النور:25) الخ یعنی ’اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ جان لیں گے‘ ۔ اور جگہ ہے : «أَإِنَّا لَمَدِینُونَ» ۸؎ (37-الصافات:53) الخ یعنی ’کیا ہم کو بدلہ دیا جائے گا ؟‘ حدیث میں ہے {دانا وہ ہے جو اپنے نفس سے خود حساب لے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال کرے} ۹؎ (سنن ترمذی:2459،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) جیسے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تم خود اپنی جانوں سے حساب لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا خود وزن کر لو اس سے پہلے کہ وہ ترازو میں رکھے جائیں اور اس بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ جب تم اس اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے جس سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں جیسے خود رب عالم نے فرما دیا : «یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَیٰ مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ» ۱۰؎ (69-الحاقۃ:18) یعنی ’جس دن تم پیش کئے جاؤ گے کوئی چھپی ڈھکی بات چھپے گی نہیں‘ ۔

عبادت کا مفہوم ساتوں قاریوں اور جمہور نے اسے «إِیَّاکَ» پڑھا ہے ۔ عمرو بن فائد نے «اِیَاکَ» پڑھا ہے ۔ لیکن یہ قراۃ شاذ اور مردود ہے ۔ اس لیے کہ «اِیاَ» کے معنی سورج کی روشنی کے ہیں اور بعض نے «أَیَّاکَ» پڑھا ہے اور بعض نے «ہَیَّاکَ» پڑھا ہے ۔ عرب شاعروں کے شعر میں بھی «َھیَّاکَ» ہے ۔ «نَسْتَعِینُ» کی یہی قرأت تمام کی ہے ۔ سوائے یحییٰ بن وثاب اور اعمش کے ۔ یہ دونوں پہلے نون کو زیر سے پڑھتے ہیں ۔ قبیلہ بنو اسد ، ربیعہ بنت تمیم کی لغت اسی طرح پر ہے ۔ لغت میں عبادت کہتے ہیں ذلت اور پستی کو طریق معبد اس راستے کو کہتے ہیں جو ذلیل ہو ۔ اسی طرح «بَعِیرٌ مُعَبَّدٌ» اس اونٹ کو کہتے ہیں جو بہت دبا اور جھکا ہوا ہو اور شریعت میں عبادت نام ہے محبت ، خشوع ، خضوع اور خوف کے مجموعے کا ۔ لفظ «اِیَّاکَ» کو جو مفعول ہے پہلے لائے اور پھر اسی کو دہرایا تاکہ اس کی اہمیت ہو جائے اور عبادت اور طلب مدد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہو جائے تو اس جملہ کے معنی یہ ہوئے کہ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور نہ کریں گے اور تیرے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اور نہ کریں گے ۔ کامل اطاعت اور پورے دین کا حاصل صرف یہی دو چیزیں ہیں ۔ بعض سلف کا فرمان ہے کہ سارے قرآن کا راز سورۃ فاتحہ میں ہے اور پوری سورت کا راز اس آیت «إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ» میں ہے ۔ آیت کے پہلے حصہ میں شرک سے بیزاری کا اعلان ہے اور دوسرے جملہ میں اپنی طاقتوں اور قوتوں کے کمال کا انکار ہے اور اللہ عزوجل کی طرف اپنے تمام کاموں کی سپردگی ہے ۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں ۔ جیسے فرمایا : «فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ وَمَا رَبٰکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ (11-ہود:123) الخ یعنی ’اللہ ہی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ کرو تمہارا رب تمہارے اعمال سے غافل نہیں‘ ۔ فرمایا : «قُلْ ہُوَ الرَّحْمٰنُ آمَنَّا بِہِ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا» ۲؎ (67-الملک:29) الخ یعنی ’کہہ دے کہ وہی رحمان ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور اسی پر ہم نے توکل کیا‘ ۔ فرمایا : «رَبٰ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیلًا» ۳؎ (73-المزمل:9) الخ یعنی ’مشرق مغرب کا رب وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ‘ ۔ یہی مضمون اس آیۃ کریمہ میں ہے اس سے پہلے کی آیات میں تو خطاب نہ تھا لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا گیا ہے جو نہایت لطافت اور مناسبت رکھتا ہے اس لیے کہ جب بندے نے اللہ تعالیٰ کی صفت و ثنا بیان کی تو قرب الہٰی میں حاضر ہو گیا اللہ جل جلالہ کے حضور میں پہنچ گیا ، اب اس مالک کو خطاب کر کے اپنی ذلت اور مسکینی کا اظہار کرنے لگا اور کہنے لگا کہ ”الہٰ“ ہم تو تیرے ذلیل غلام ہیں اور اپنے تمام کاموں میں تیرے ہی محتاج ہیں ۔ اس آیت میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اس سے پہلے کے تمام جملوں میں خبر تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین صفات پر اپنی ثناء آپ کی تھی اور بندوں کو اپنی ”ثناء“ انہی الفاظ کے ساتھ بیان کرنے کا ارشاد فرمایا تھا اسی لیے اس شخص کی نماز صحیح نہیں جو اس سورت کو پڑھنا جانتا ہو اور پھر نہ پڑھے ۔ جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس شخص کی نماز نہیں جو نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے“} ۱؎ ۔ (صحیح بخاری:756) صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان [نصف نصف] بانٹ لیا ہے اس کا آدھا حصہ میرا ہے اور آدھا حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے ۔ جب بندہ «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» کہتا ہے ، تو اللہ فرماتا ہے «حَمِدَنِی عَبْدِی» میرے بندے نے میری حمد بیان کی ۔ جب کہتا ہے «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» ، اللہ فرماتا ہے «أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی» میرے بندے نے میری ثنا کی ۔ جب وہ کہتا ہے «مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ» ، اللہ فرماتا ہے «مَجَّدَنِی عَبْدِی» میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ۔ جب وہ «إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ» کہتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ہَذَا بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ» یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔ پھر وہ آخر سورت تک پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ہَذَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ» یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرا بندہ جو مجھ سے مانگے اس کے لیے ہے“} ۲؎ ۔ (صحیح مسلم:395) عبادت اور طلب مدد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «إِیَّاکَ نَعْبُدُ» کے معنی یہ ہیں کہ اے ہمارے رب ہم خاص تیری ہی توحید مانتے ہیں اور تجھ سے ڈرتے ہیں اور تیری اسی ذات سے امید رکھتے ہیں تیرے سوا کسی اور کی نہ ہم عبادت کریں ، نہ ڈریں ، نہ امید رکھیں ۔ اور «إِیَّاکَ نَسْتَعِینُ» سے یہ مراد ہے کہ ہم تیری تمام اطاعت اور اپنے تمام کاموں میں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۱؎ (تفسیر ابن ابی حاتم:19/1) قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم ہے کہ تم سب اسی کی خالص عبادت کرو اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد مانگو ۲؎ (تفسیر ابن ابی حاتم:20/1) «إِیَّاکَ نَعْبُدُ» کو پہلے لانا اس لیے ہے کہ اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی ہے اور مدد کرنا یہ عبادت کا وسیلہ اور اہتمام اور اس پر پختگی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زیادہ اہمیت والی چیز کو مقدم کیا جاتا ہے اور اس سے کمتر کو اس کے بعد لایا جاتا ہے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» اگر یہ کہا جائے کہ یہاں جمع کے صیغہ کو لانے کی یعنی ہم کہنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر یہ جمع کے لیے ہے تو کہنے والا تو ایک ہے اور اگر تعظیم کے لیے ہے تو اس مقام پر نہایت نامناسب ہے کیونکہ یہاں تو مسکینی اور عاجزی ظاہر کرنا مقصود ہے اس کا جواب یہ ہے کہ گویا ایک بندہ تمام بندوں کی طرف سے خبر دے رہا ہے ۔ بالخصوص جبکہ وہ جماعت میں کھڑا ہو یا امام بنا ہوا ہو ۔ پس گویا وہ اپنی اور اپنے سب مومن بھائیوں کی طرف سے اقرار کر رہا ہے کہ وہ سب اس کے بندے ہیں اور اسی کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور یہ ان کی طرف سے بھلائی کے لیے آگے بڑھا ہوا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ تعظیم کے لیے ہے گویا کہ بندہ جب عبادت میں داخل ہوتا ہے تو اسی کو کہا جاتا ہے کہ تو شریف ہے اور تیری عزت ہمارے دربار میں بہت زیادہ ہے تو اب «إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ» کہا یعنی اپنے تئیں عزت سے یاد کر ۔ ہاں اگر عبادت سے الگ ہو تو اس وقت ہم نہ کہے چاہے ہزاروں لاکھوں میں ہو کیونکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے محتاج اور اس کے دربار کے فقیر ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ «إِیَّاکَ نَعْبُدُ» میں جو تواضع اور عاجزی ہے وہ «إِیَّاکَ عَبَدنَا» میں نہیں اس لیے کہ اس میں اپنے نفس کی بڑائی اور اپنی عبادت کی اہلیت پائی جاتی ہے حالانکہ کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی پوری عبادت اور جیسی چاہے ویسی ثنا و صفت بیان کرنے پر قدرت ہی نہیں رکھتا ۔ کسی شاعر کا قول ہے [ترجمہ] کہ مجھے اس کا غلام کہہ کر ہی پکارو کیونکہ میرا سب سے اچھا نام یہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا نام عبد یعنی غلام ان ہی جگہوں پر لیا جہاں اپنی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کیا جیسے قرآن نازل کرنا ، نماز میں کھڑے ہونا ، معراج کرانا وغیرہ ، فرمایا : «الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیٰ عَبْدِہِ الْکِتَابَ» ۱؎ (18-الکہف:1) الخ ، فرمایا : «وَأَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللہِ یَدْعُوہُ» ۲؎ (72-الجن:19) الخ ، فرمایا : «سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا» ۳؎ (17-الإسراء:1) الخ ، ساتھ ہی قرآن پاک نے یہ تعلیم دی کہ اے نبی جس وقت تمہارا دل مخالفین کے جھٹلانے کی وجہ سے تنگ ہو تو تم میری عبادت میں مشغول ہو جاؤ ۔ فرمان ہے : «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّکَ یَضِیقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِنَ السَّاجِدِینَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّیٰ یَأْتِیَکَ الْیَقِینُ» ۴؎ (15-الحجر:97-98-99) یعنی ’ہم جانتے ہیں کہ مخالفین کی باتیں تیرا دل دکھاتی ہیں تو ایسے وقت اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کر اور سجدہ کر اور موت کے وقت تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ‘ ۔ رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے نقل کیا ہے کہ عبودیت کا مقام رسالت کے مقام سے افضل ہے کیونکہ عبادت کا تعلق مخلوق سے خالق کی طرف ہوتا اور رسالت کا تعلق حق سے خلق کی طرف ہوتا ہے اور اس دلیل سے بھی کہ عبد کی کل اصلاح کے کاموں کا متولی خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہوتا ہے اور رسول اپنی امت کی مصلحتوں کا والی ہوتا ہے ۔ لیکن یہ قول غلط ہے اور اس کی یہ دونوں دلیلیں بھی بودی اور لاحاصل ہیں ۔ افسوس رازی نے نہ تو اس کو ضعیف کہا نہ اسے رد کیا ۔ بعض صوفیوں کا قول ہے کہ عبادت یا تو ثواب حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے یا عذاب دفع کرنے کے لیے ، وہ کہتے ہیں یہ کوئی فائدے کی بات نہیں اس لیے کہ اس وقت مقصود خود اپنی مراد کا حاصل کرنا ٹھہرا ۔ اس کی تکالیف کے لیے آمادگی کرنا یہ بھی ضعیف ہے ۔ اعلیٰ مرتبہ عبادت یہ ہے کہ انسان اس مقدس ذات کی جو تمام کامل صفتوں سے موصوف ہے محض اس کی ذات کے لیے عبادت کرے اور مقصود کچھ نہ ہو ۔ اسی لیے نمازی کی نیت نہ نماز پڑھنے کی ہوتی ہے اگر وہ ثواب پانے اور عذاب سے بچنے کے لیے ہو تو باطل ہے ۔ دوسرا گروہ ان کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ عبادت کا اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا کچھ اس کے خلاف نہیں کہ ثواب کی طلب اور عذاب کا بچاؤ مطلوب نہ ہو اس کی دلیل یہ ہے کہ {ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نہ تو آپ جیسا پڑھنا جانتا ہوں نہ معاذ جیسا ، میں تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے نجات چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسی کے قریب قریب ہم بھی پڑھتے ہیں“} ۵؎ ۔ (سنن ابوداود:792،قال الشیخ الألبانی:صحیح)

حصول مقصد کا بہترین طریقہ جمہور نے «صِّرَاطَ» پڑھا ہے ۔ بعض نے «ِسرَاطَ» کہا ہے اور «زے» کی بھی ایک قراۃ ہے ۔ فراء کہتے ہیں بنی عذرہ اور بنی کلب کی قراۃ یہی ہے چونکہ پہلے ثنا و صفت بیان کی تو اب مناسب تھا کہ اپنی حاجت طلب کرے ۔ جیسے کہ پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے ۔ خیال کیجئے کہ اس میں کس قدر لطافت اور عمدگی ہے کہ پہلے پروردگار عالم کی تعریف و توصیف کی ، پھر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حاجت طلب کی ۔ یہ وہ لطیف انداز ہے جو مقصود کو حاصل کرنے اور مراد کو پا لینے کے لیے تیر بہدف ہے ، اس کامل طریقہ کو پسند فرما کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی ہدایت کی ۔ کبھی سوال اس طرح ہوتا ہے کہ سائل اپنی حالت اور حاجت کو ظاہر کر دیتا ہے ۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا : «رَبِّ إِنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ» ۱؎ (28-القصص:24) الخ یعنی ’پروردگار جو بھلائیاں تو میری طرف نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں‘ ۔ یونس علیہ السلام نے بھی اپنی دعا میں کہا : «لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ» ۲؎ (21-الأنبیاء:87) الخ یعنی ’الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ظالموں میں سے ہوں‘ ۔ کبھی سوال اس طرح بھی ہوتا ہے کہ سائل صرف تعریف اور بزرگی بیان کر کے چپ ہو جاتا ہے جیسے کسی شاعر کا قول ہے «أَأَذْکُرُ حَاجَتِی أَمْ قَدْ کَفَانِی … حَیَاؤُکَ إِنَّ شِیمَتَکَ الْحَیَاءُ … إِذَا أَثْنَی عَلَیْکَ الْمَرْءُ یَوْمًا … کَفَاہُ مِنْ تَعَرٰضِہِ الثَّنَاءُ» کہ مجھے اپنی حاجت کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تیری مہربانیوں بھری بخشش مجھے کافی ہے میں جانتا ہوں کہ داد و دہش تیری پاک عادتوں میں داخل ہے لیکن تیری پاکیزگی بیان کر دینا ، تیری حمد و ثنا کرنا ہی مجھے اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے کافی ہے ۔ ہدایت کے معنی یہاں پر ارشاد اور توفیق کے ہیں ۔ کبھی تو ہدایت بنفسہ متعدی ہوتی ہے جیسے یہاں ہے تو معنی «أَلْہِمْنَا ، وَفِّقْنَا ، ارْزُقْنَا» اور «اعْطِنَا» یعنی ہمیں عطا فرمائے ہوں گے اور جگہ ہے : «وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ» ۳؎ (90-البلد:10) الخ یعنی ’ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے‘ بھلائی اور برائی دونوں کے ۔ اور کبھی ہدایت «الیٰ» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے ، جیسے فرمایا : «اجْتَبَاہُ وَہَدَاہُ إِلَیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ» ۴؎ (16-النحل:121) اور فرمایا : «فَاہْدُوہُمْ إِلَیٰ صِرَاطِ الْجَحِیمِ» ۵؎ (37-الصافات:23) یہاں ہدایت ارشاد اور دلالت کے معنی میں ہے ۔ اسی طرح فرمان ہے : «وَإِنَّکَ لَتَہْدِی إِلَیٰ صِرَاطٍ مٰسْتَقِیمٍ» ۶؎ (42-الشوری:52) الخ یعنی ’تو البتہ سیدھی راہ دکھاتا ہے‘ ، اور کبھی ہدایت «لام» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے جنتیوں کا قول قرآن کریم میں ہے : «الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِی ہَدَانَا لِہٰذَا» ۷؎ (7-الأعراف:43) الخ یعنی ’اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی یعنی توفیق دی اور ہدایت والا بنایا‘ ۔ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» کے معنی سنئے ۔ امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے واضح اور صاف راستہ ہے جو کہیں سے ٹیڑھا نہ ہو ۔ عرب کی لغت میں اور شاعروں کے شعر میں یہ معنی صاف طور پر پائے جاتے ہیں اور اس پر بےشمار شواہد موجود ہیں ۔ «صِّرَاطَ» کا استعمال بطور استعارہ کے قول اور فعل پر بھی آتا ہے اور پھر اس کا وصف استقامت اور ٹیڑھ پن کے ساتھ بھی آتا ہے ۔ سلف اور متاخرین مفسرین سے اس کی بہت سی تفسیریں منقول ہیں اور ان سب کا خلاصہ ایک ہی ہے اور وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری ہے ۔ صراط مستقیم کیا ہے؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ {صراط مستقیم کتاب اللہ ہے} ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:174:ضعیف جدا) ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بھی روایت کی ہے ۔ فضائل قرآن کے بارے میں پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ {اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ، حکمتوں والا ذکر اور سیدھی راہ یعنی صراط مستقیم یہی اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے} ۲؎ ۔ (سنن ترمذی:2906،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے اور مرفوع حدیث کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ مشابہ ہے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم «اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ» کہئے یعنی ہمیں ہدایت والے راستہ کا الہام کر اور اس دین قیم کی سمجھ دے جس میں کوئی کجی نہیں ۔ آپ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے ۔ سیدنا ابن عباس ، سیدنا ابن مسعود اور بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہی تفسیر منقول ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» سے مراد اسلام ہے جو ہر اس چیز سے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے زیادہ وسعت والا ہے ۔ ابن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جس کے سوا اور دین مقبول نہیں ۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» اسلام ہے ۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں بھی مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی کہ «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں ، ان میں کئی ایک کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں ، «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» کے دروازے پر ایک پکارنے والا مقرر ہے ، جو کہتا ہے کہ اے لوگو ! تم سب کے سب اسی سیدھی راہ پر چلے جاؤ ، ٹیڑھی ترچھی ادھر ادھر کی راہوں کو نہ دیکھو نہ ان پر جاؤ ۔ اور اس راستے سے گزرنے والا کوئی شخص جب ان دروازوں میں سے کسی ایک کو کھولنا چاہتا ہے تو ایک پکارنے والا کہتا ہے خبردار اسے نہ کھولنا ۔ اگر کھولا تو اس راہ لگ جاؤ گے اور «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» سے ہٹ جاؤ گے ۔ پس «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» تو اسلام ہے اور دیواریں اللہ کی حدیں ہیں اور کھلے ہوئے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور دروازے پر پکارنے والا قرآن کریم ہے ، اور راستے کے اوپر سے پکارنے والا زندہ ضمیر ہے جو ہر ایماندار کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور واعظ کے ہوتا ہے} ۱؎ ۔ (سنن ترمذی:2859،قال الشیخ الألبانی:صحیح) یہ حدیث ابن ابی حاتم ، ابن جریر ، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور اس کی اسناد حسن صحیح ہیں ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد حق ہے ۔ ان کا قول سب سے زیادہ مقبول ہے اور مذکورہ اقوال کا کوئی مخالف نہیں ۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے آپ کے دونوں خلیفہ ہیں ۔ حسن رحمہ اللہ اس قول کی تصدیق اور تحسین کرتے ہیں ۔ دراصل یہ سب اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں خلفاء صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما کا تابعدار حق کا تابع ہے اور حق کا تابع اسلام کا تابع ہے اور اسلام کا تابع قرآن کا مطیع ہے اور قرآن اللہ کی کتاب اس کی طرف سے مضبوط رسی اور اس کی سیدھی راہ ہے ۔ لہٰذا «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» کی تفسیر میں یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں ۔ «فالْحَمْدُ لِلّٰہ» سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» وہ ہے جس پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا ۔ امام ابوجعفر بن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ میرے نزدیک اس آیت کی تفسیر میں سب سے اولیٰ یہ ہے کہ ہم کو توفیق دی جائے اس کی جو اللہ کی مرضی کی ہو اور جس پر چلنے کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں سے راضی ہوا ہو اور ان پر انعام کیا ہو ، «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» یہی ہے ۔ اس لیے کہ جس شخص کو اس کی توفیق مل جائے ، جس کی توفیق اللہ کے نیک بندوں کو تھی جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا تھا جو نبی ، صدیق ، شہید اور صالح لوگ تھے انہوں نے اسلام کی اور رسولوں کی تصدیق کی ، کتاب اللہ کو مضبوط تھام رکھا ، اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائے ۔ اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے رک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چاروں خلیفوں رضی اللہ عنہم اور تمام نیک بندوں کی راہ کی توفیق مل جائے گی تو یہی «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ مومن کو تو اللہ کی طرف سے ہدایت حاصل ہو چکی ہے پھر نماز اور غیر نماز میں ہدایت مانگنے کی کیا ضرورت ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مراد اس سے ہدایت پر ثابت قدمی اور رسوخ اور بینائی اور ہمیشہ کی طلب ہے اس لیے کہ بندہ ہر ساعت اور ہر حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا محتاج ہے وہ خود اپنی جان کے نفع نقصان کا مالک نہیں بلکہ دن رات اپنے اللہ کا محتاج ہے اسی لیے اسے سکھایا کہ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتا رہے اور ثابت قدمی اور توفیق چاہتا رہے ۔ بھلا اور نیک بخت انسان وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے در کا بھکاری بنا لے وہ اللہ ہر پکارنے والے کی پکار کے قبول کرنے کا کفیل ہے ۔ بالخصوص بےقرار محتاج اور اس کے سامنے اپنی حاجت دن رات پیش کرنے والے کی ہر پکار کو قبول کرنے کا ضامن ہے ۔ اور جگہ قرآن کریم میں ہے : «یَا أَیٰہَا الَّذِینَ آمَنُوا آمِنُوا بِ اللہِ وَرَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی نَزَّلَ عَلَیٰ رَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ» ۱؎ (4-النساء:136) الخ یعنی ’اے ایمان والو ! اللہ پر ، اس کے رسولوں پر ، اس کی اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول کی طرف نازل فرمائی اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئیں ، سب پر ایمان لاؤ ۔ اس آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا اور ہدایت والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا ایسا ہی ہے جیسے یہاں ہدایت والوں کو ہدایت کی طلب کرنے کا حکم دینا ۔ مراد دونوں جگہ ثابت قدمی اور اور استمرار ہے اور ایسے اعمال پر ہمیشگی کرنا جو اس مقصد کے حاصل کرنے میں مدد پہنچائیں ۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہو بھی نہیں سکتا کہ یہ حاصل شدہ چیز کا حاصل کرنا ہے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» اور دیکھئیے اللہ رب العزت نے اپنے ایماندار بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کہیں : «رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ» ۱؎ (3-آل عمران:8) الخ یعنی ’اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما تو بہت بڑا دینے والا اور عطا کرنے والا ہے‘ ۔ یہ بھی وارد ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز مغرب کی تیسری رکعت سورۃ فاتحہ کے بعد اس آیت کو پوشیدگی سے پڑھا کرتے تھے پس «اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ» کے معنی یہ ہوئے کہ الہٰ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ اور اس سے ہمیں نہ ہٹا ۔

انعام یافتہ کون؟ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ» کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہو سکتی ہے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آ چکا ہے فرمان ہے : «وَمَنْ یُطِعِ اللہَ وَالرَّسُولَ فَأُولٰئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشٰہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولٰئِکَ رَفِیقًا» * «ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللہِ وَکَفَیٰ بِ اللہِ عَلِیمًا» ۱؎ (4-النساء:69-70) الخ یعنی ’اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی ، صدیق ، شہید ، صالح لوگ ہیں ، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں ۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے‘ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں ، نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا ۔ یہ آیت ٹھیک «وَمَنْ یُطِعِ اللہَ وَالرَّسُولَ فَأُولٰئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِمْ» ۱؎ (4-النساء:69) کی طرح ہے ۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مومن ہیں ۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان مراد ہیں ۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» جمہور کی قرأت میں «غَیْرِ» «رے» کے زیر کے ساتھ ہے اور صفت ہے ۔ زمحشری کہتے ہیں «رے» کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور حال ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قرأت یہی ہے اور ابن کثیر رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت کی گئی ہے ۔ «عَلَیْہِمْ» میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور «أَنْعَمْتَ» عامل ہے ۔ معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار ، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے ، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے ۔

مغضوب کون؟ ان کی راہ سے بچا ، جن پر غضب و غصہ کیا گیا ، جن کے ارادے فاسد ہو گئے ، حق کو جان کر پھر اس سے ہٹ گئے اور گم گشتہ راہ لوگوں کے طریقے سے بھی ہمیں بچا لے جو سرے سے علم نہیں رکھتے مارے مارے پھرتے ہیں راہ سے بھٹکے ہوئے حیران و سرگرداں ہیں اور راہ حق کی طرف رہنمائی نہیں کئے جاتے «لَا» کو دوبارہ لا کر کلام کی تاکید کرنا اس لیے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہاں دو غلط راستے ہیں ، ایک یہود کا دوسرا نصاریٰ کا ۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غَیْرَ» کا لفظ یہاں پر استثناء کے لیے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے ۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے ۔ عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں ۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے ۔ «غَیْرِ الْمَغْضُوبِ» سے مراد «غَیْرِ صِرَاطِ الْمَغْضُوبِ» ہے ۔ مضاف «إِلَیْہِ» کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لیے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے ۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آ چکا ہے ۔ بعض کہتے ہیں «وَلَا الضَّالِّینَ» میں «لَا» زائد ہے اور ان کے نزدیک تقدیر کلام اس طرح ہے «غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَالضَّالِّینَ» اور اس کی شہادت عرب شاعروں کے شعر سے بھی ملتی ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے «غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَغَیْرِ الضَّالِّینَ» پڑھنا صحیح سند سے مروی ہے اور اسی طرح سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے اور یہ محمول ہے اس پر کہ ان بزرگوں سے یہ بطور تفسیر صادر ہوا ۔ تو ہمارے قول کی تائید ہوئی کہ «لَا» نفی کی تاکید کے لیے ہی لایا گیا ہے تاکہ یہ وہم ہی نہ ہو کہ یہ «أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ» پر عطف ہے اور اس لیے بھی کہ دونوں راہوں کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ ہر شخص ان دونوں سے بھی بچتا رہے ۔ اہل ایمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور حق پر عمل بھی ہو ۔ یہودیوں کے ہاں علم نہیں اور نصاریٰ کے ہاں عمل نہیں اسی لیے یہودیوں پر غضب ہوا اور نصرانیوں کو گمراہی ملی ۔ اس لیے کہ علم کے باوجود عمل کو چھوڑنا غضب کا سبب ہے اور نصرانی گو ایک چیز کا قصد تو کرتے ہیں مگر اس کے باوجود صحیح راستہ کو نہیں پا سکتے اس لیے کہ ان کا طریقہ کار غلط ہے اور اتباع حق سے ہٹے ہوئے ہیں یوں تو غضب اور گمراہی ان دونوں جماعتوں کے حصہ میں ہے لیکن یہودی غضب کے حصہ میں پیش پیش ہیں ۔ جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں ہے : «مَنْ لَعَنَہُ اللہُ وَغَضِبَ عَلَیْہِ» ۱؎ (5-المائدۃ:60) الخ اور نصرانی ضلالت میں بڑھے ہوئے ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے : «قَدْ ضَلٰوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلٰوا کَثِیرًا وَضَلٰوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِیلِ» ۲؎ (5-المائدۃ:77) الخ یعنی ’یہ پہلے ہی سے گمراہ ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں‘ ۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں اور روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔ مسند احمد میں ہے ۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے میری پھوپھی اور چند اور لوگوں کو گرفتار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو میری پھوپھی نے کہا میری خبرگیری کرنے والا غائب ہے اور میں عمر رسیدہ بڑھیا ہوں جو کسی خدمت کے لائق نہیں آپ مجھ پر احسان کیجئے اور مجھے رہائی دیجئیے ۔ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی احسان کرے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ تیری خیر خبر لینے والا کون ہے ؟ اس نے کہا عدی بن حاتم آپ نے فرمایا وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگتا پھرتا ہے ؟ پھر آپ نے اسے آزاد کر دیا ۔ جب لوٹ کر آپ آئے تو آپ کے ساتھ ایک شخص تھے اور غالباً وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے آپ نے فرمایا : لو ان سے سواری مانگ لو ۔ میری پھوپھی نے ان سے درخواست کی جو منظور ہوئی اور سواری مل گئی ۔ وہ یہاں سے آزاد ہو کر میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت نے تیرے باپ حاتم کی سخاوت کو بھی ماند کر دیا ۔ آپ کے پاس جو آتا ہے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا ۔ یہ سن کر میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ چھوٹے بچے اور بڑھیا عورتیں بھی آپ کی خدمت میں آتی جاتی ہیں اور آپ ان سے بھی بےتکلفی کے ساتھ بولتے چالتے ہیں ۔ اس بات نے مجھے یقین دلایا دیا کہ آپ قیصر و کسریٰ کی طرح بادشاہت اور وجاہت کے طلب کرنے والے نہیں ۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا : ”عدی «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» کہنے سے کیوں بھاگتے ہو ؟ کیا اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق ہے ؟ « اللہُ أَکْبَرُ» کہنے سے کیوں منہ موڑتے ہو ؟ کیا اللہ عزوجل سے بھی بڑا کوئی ہے ؟“ مجھ پر ان کلمات نے آپ کی سادگی اور بےتکلفی نے ایسا اثر کیا کہ میں فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا ۔ جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے «الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ» سے مراد یہود ہیں اور «الضَّالِّینَ» سے مراد نصاریٰ ہیں} ۱؎ ۔ (سنن ترمذی:2954،قال الشیخ الألبانی:حسن) ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی ۲؎۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:209،195:حسن) اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے ۔ بنوقین کے ایک شخص نے وادی القریٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب میں یہی فرمایا ۳؎ ۔ (مسند احمد:5/32:حسن بالشواھد) بعض روایتوں میں ان کا نام عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» ابن مردویہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ، سیدنا ابن مسعود اور بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بھی یہ تفسیر منقول ہے ۔ ربیع بن انس ، عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں بلکہ ابن ابی حاتم تو فرماتے ہیں مفسرین میں اس بارے میں کوئی اختلاف ہی نہیں ۔ ان ائمہ کی اس تفسیر کی دلیل ایک تو وہ حدیث ہے جو پہلے گزری ۔ دوسری سورۃ البقرہ کی یہ آیت جس میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا ہے : «بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہِ أَنْفُسَہُمْ أَنْ یَکْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللہُ بَغْیًا أَنْ یُنَزِّلَ اللہُ مِنْ فَضْلِہِ عَلَیٰ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَیٰ غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ مُہِینٌ» ۱؎ (2-البقرۃ:90) اس آیت میں ہے کہ ان پر غضب پر غضب نازل ہوا ۔ اور سورۃ المائدہ کی آیت «قُلْ ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذٰلِکَ مَثُوبَۃً عِنْدَ اللہِ مَنْ لَعَنَہُ اللہُ وَغَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولٰئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَأَضَلٰ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیلِ» ۲؎ (5-المائدۃ:60) میں بھی ہے کہ ان پر غضب الہٰی نازل ہوا اور جگہ فرمان الہٰی ہے : «لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَیٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوا یَعْتَدُونَ * کَانُوا لَا یَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُنْکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَفْعَلُونَ» ۳؎ (5-المائدۃ:79) یعنی ’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی ۔ دواؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانی یہ ان کی نافرمانی اور حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہے ۔ یہ لوگ کسی برائی کے کام سے آپس میں روک ٹوک نہیں کرتے تھے یقیناً ان کے کام بہت برے تھے‘ ۔ اور تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جو کہ دین خالص کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سمیت نکلے اور ملک شام میں آئے تو ان سے یہودیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دین میں تب تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک غضب الہٰی کا ایک حصہ نہ پا لو ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے بچنے کے لیے تو دین حق کی تلاش میں نکلے ہیں پھر اسے کیسے قبول کر لیں ؟ پھر نصرانیوں سے ملے انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مزا نہ چکھ لو تب تک آپ ہمارے دین میں نہیں آ سکتے ۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنی فطرت پر ہی رہے ۔ بتوں کی عبادت اور قوم کا دین چھوڑ دیا لیکن یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی ۔ البتہ زید کے ساتھیوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا ۔ اس لیے کہ یہودیوں کے مذہب سے یہ ملتا جلتا تھا ۔ انہی میں ورقہ بن نوفل تھے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ ملا اور ہدایت الہٰی نے ان کی رہبری کی اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جو وحی اس وقت تک اتری تھی اس کی تصدیق کی [رضی اللہ عنہ] ۔ مسئلہ «ضَّادِ» اور «ظَّاءِ» کی قرأت میں بہت باریک فرق ہے اور ہر ایک کے بس کا نہیں ۔ اس لیے علمائے کرام کا صحیح مذہب یہ ہے کہ یہ فرق معاف ہے ، «ضَّادِ» کا صحیح مخرج تو یہ ہے کہ زبان کا اول کنارہ اور اس کے پاس کی داڑھیں اور «ظَّاءِ» کا مخرج زبان کا ایک طرف اور سامنے والے اوپر کے دو دانت کے کنارے ۔ دوسرے یہ کہ یہ دونوں حرف «مَجْہُورَۃِ» اور «رِّخْوَۃِ» اور «مُطْبَقَۃِ» ہیں پس اس شخص کو جسے ان دونوں میں تمیز کرنی مشکل معلوم ہو ، اسے معاف ہے کہ «ضَّادِ» کو «ظَّاءِ» کی طرح پڑھ لے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ {میں «ضَّادِ» کو سب سے زیادہ صحیح پڑھنے والا ہوں} ۱؎ (کشف الخفاء:200/1:لااصل لہ) لیکن یہ حدیث بالکل بے اصل اور لاپتہ ہے ۔ الحمد کا تعارف و مفہوم یہ مبارک سورت نہایت کار آمد مضامین کا مجموعہ ہے ان سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد ، اس کی بزرگی ، اس کی ثنا و صفت اور اس کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں کا بیان ہے ساتھ ہی قیامت کے دن کا ذکر ہے اور بندوں کو ارشاد ہے کہ وہ اس مالک سے سوال کریں اس کی طرف تضرع و زاری کریں اپنی مسکینی اور بےکسی اور بےبسی کا اقرار کریں اور اس کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں اور اس کی توحید الوہیت کا اقرار کریں ۔ اسے شریک، نظیر اور مثل سے پاک اور برتر جانیں۔ صراط مستقیم اور اس پر ثابت قدمی اس سے طلب کریں تاکہ یہی ہدایت انہیں قیامت والے دن پل صراط سے بھی پار اتارے اور نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحوں کے پڑوس میں جنت الفردوس میں جگہ دلائے ۔ ساتھ ہی اس سورت میں نیک اعمال کی ترغیب ہے تاکہ قیامت کے دن نیکوں کا ساتھ ملے اور باطل راہوں پر چلنے سے ڈراوا پیدا ہو تاکہ قیامت کے دن بھی یہ باطل پرست یہود و نصاریٰ کی جماعت سے دور ہی رہیں ۔ اس باریک نکتہ پر بھی غور کیجئے کہ انعام کی اسناد تو اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی اور «أَنْعَمْتَ» کہا گیا لیکن غضب کی اسناد اللہ کی طرف نہیں کی گئی یہاں فاعل حذف کر دیا اور «الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ» کہا گیا اس میں پروردگار عالم کی جناب میں ادب کیا گیا ہے ۔ دراصل حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ جیسے اور جگہ ہے : «غَضِبَ اللہُ عَلَیْہِمْ» ۱؎ (58-المجادلۃ:14) اور اسی طرح ضلالت کی اسناد بھی ان کی طرف کی کئی جو گمراہ ہیں ۔ حالانکہ اور جگہ ہے : «وَمَنْ یَہْدِ اللہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِ وَمَنْ یُضْلِلْ» ۲؎ (17-الإسراء:97) الخ یعنی ’اللہ جسے راہ دکھائے وہ راہ یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا رہنما کوئی نہیں‘ ۔ اور جگہ فرمایا : «مَنْ یُضْلِلِ اللہُ فَلَا ہَادِیَ لَہُ» (7-الأعراف:186) ۳؎ الخ یعنی ’جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ تو اپنی سرکشی میں بہکے رہتے ہیں‘ ۔ اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ راہ دکھانے والا گمراہ کرنے والا صرف سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے ۔ قدریہ فرقہ جو ادھر ادھر کی متشابہ آیتوں کو دلیل بنا کر کہتا ہے کہ بندے خود مختار ہیں وہ خود جو پسند کرتے ہیں وہی کرتے ہیں ۔ یہ غلط ہے ، صریح اور صاف صاف آیتیں ان کے رد میں موجود ہیں لیکن باطل پرست فرقوں کا یہی قاعدہ ہے کہ صراحت کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگا کرتے ہیں ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہی لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے تم ان کو چھوڑ دو ۱؎ ۔ (صحیح بخاری:4547) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس فرمان میں اس آیت شریف کی طرف ہے «فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِیلِہِ» ۲؎ (3-آل عمران:7) الخ یعنی ’جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہ ہے کے پیچھے لگتے ہیں فتنوں اور تاویل کو ڈھونڈنے کے لیے‘ ۔ پس «الْحَمْدُ لِلّٰہ» بدعتیوں کے لیے قرآن پاک میں صحیح دلیل کوئی نہیں ۔ قرآن کریم تو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرنے کے لیے آیا ہے اس میں تناقض اور اختلاف نہیں ۔ یہ تو اللہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے ۔ آمین اور سورہ فاتحہ سورۃ فاتحہ کو ختم کر کے آمین کہنا مستحب ہے ۔ آمین مثل «یاسین» کے ہے اور آمین بھی کہا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ”اے اللہ تو قبول فرما“ ۔ آمین کہنے کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد ، ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں {میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ» کہہ کر «آمِینَ» کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے} ۱؎ ۔ (سنن ترمذی:248،قال الشیخ الألبانی:صحیح) ابوداؤد میں ہے {آواز بلند کرتے تھے} ۲؎ ۔ (سنن ابوداود:392،قال الشیخ الألبانی:صحیح) امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن کہتے ہیں ۔ سیدنا علی ، سیدنا ابن مسعود ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین پہلی صف والے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے سن لیتے} ۳؎ ۔ (سنن ابوداود:934،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) ابوداؤد اور ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے ۔ ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ {آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی} ۴؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:853،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) دارقطنی میں بھی یہ حدیث ہے ۵؎ ۔ (دارقطنی:335/1:حسن) اور امام دارقطنی رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ {سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے ۔ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے} ۶؎ ۔ (سنن ابوداود:937،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) حسن بصری اور جعفر صادق رحمہ اللہ علیہم سے آمین کہنا مروی ہے ۔ جیسے کہ «آمِّینَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ» ۷؎ (5-المائدۃ:2) قرآن میں ہے ۔ ہمارے اصحاب وغیرہ کہتے ہیں جو نماز میں نہ ہو اسے بھی آمین کہنا چاہیئے ۔ ہاں جو نماز میں ہو اس پر تاکید زیادہ ہے ۔ نمازی خود اکیلا ہو ، خواہ مقتدی ہو ، خواہ امام ہو ، ہر حالت میں آمین کہے ۔ صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۱؎ ۔ (صحیح بخاری:786) صحیح مسلم میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں اور ایک کی آمین دوسرے کی آمین سے مل جاتی ہے تو اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۲؎ ۔ (صحیح مسلم:410) مطلب یہ ہے کہ اس کی آمین کا اور فرشتوں کی آمین کا وقت ایک ہی ہو جائے یا موافقت سے مراد قبولیت میں موافق ہونا ہے یا اخلاص میں ۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّینَ» کہے تو آمین کہو اللہ قبول فرمائے گا} ۳؎ ۔ (صحیح مسلم:404) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آمین کے کیا معنی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ تو کر“} ۱؎ ۔ (تفسیر کشاف:18/1:ضعیف) جوہری کہتے ہیں اس کے معنی ”اسی طرح ہو“ ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ ”ہماری امیدوں کو نہ توڑ“ ۔ اکثر علماء فرماتے ہیں اس کے معنی ”اے اللہ تو ہماری دعا قبول فرما“ کے ہیں ۔ مجاہد ، جعفر صادق ، ہلال بن سیاف رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی یہ مروی ہے لیکن صحیح نہیں ۲؎ ۔ (عبدالرزاق:2651) امام مالک رحمہ اللہ کے اصحاب کا مذہب ہے کہ امام آمین نہ کہے مقتدی آمین کہے کیونکہ موطا مالک کی حدیث میں ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّینَ» کہے تو تم آمین کہو} ۳؎ ۔ (صحیح بخاری:796) اسی طرح ان کی دلیل کی تائید میں صحیح مسلم والی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی آتی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب امام «وَلَا الضَّالِّینَ» کہے تو تم آمین کہو“} ۴؎ ۔ (صحیح مسلم:404) لیکن بخاری و مسلم کی حدیث پہلے بیان ہو چکی کہ {جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو} ۵؎ ۔ (صحیح بخاری:786) اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «وَلَا الضَّالِّینَ» پڑھ کر آمین کہتے تھے} ۶؎ ۔ (سنن ترمذی:248،قال الشیخ الألبانی:صحیح) آمین باآواز بلند جہری نمازوں میں مقتدی اونچی آواز سے آمین کہے یا نہ کہے ، اس میں ہمارے ساتھیوں کا اختلاف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر امام آمین کہنی بھول گیا ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین کہیں ۔ اگر امام نے خود اونچی آواز سے آمین کہی ہو تو نیا قول یہ ہے کہ مقتدی باآواز بلند نہ کہیں ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے ۔ اور ایک روایت میں امام مالک رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے اس لیے کہ نماز کے اور اذکار کی طرح یہ بھی ایک ذکر ہے تو نہ وہ صرف بلند آواز سے پڑھے جاتے ہیں نہ یہ بلند آواز سے پڑھا جائے ۔ لیکن پہلا قول یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کا بھی دوسری روایت کے اعتبار سے یہی مذہب ہے اور اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی ۔ ہمارے یہاں پر ایک تیسرا قول بھی ہے کہ اگر مسجد چھوٹی ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین نہ کہیں اس لیے کہ وہ امام کی قرأت سنتے ہیں اور اگر بڑی ہو تو اونچی آواز سے آمین کہیں تاکہ مسجد کے کونے کونے میں آمین پہنچ جائے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» [صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے ان میں اونچی آواز سے آمین کہنی چاہیئے ۔ خواہ مقتدی ہو خواہ امام ہو ، خواہ منفرد ، مترجم] مسند احمد میں صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودیوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری تین چیزوں پر یہودیوں کو اتنا بڑا حسد ہے کہ کسی اور چیز پر نہیں ۔ ایک تو جمعہ پر کہ اللہ نے ہمیں اس کی ہدایت کی اور یہ بہک گئے دوسرے قبلہ ، تیسرے ہمارا امام کے پیچھے آمین کہنا} ۱؎ ۔ (سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:691،صحیح بالشواھد) ابن ماجہ کی حدیث میں یوں ہے کہ {یہودیوں کو سلام پر اور آمین پر جتنی چڑ ہے اتنی کسی اور چیز پر نہیں} ۲؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:856،قال الشیخ الألبانی:صحیح) اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جس قدر حسد یہودی آمین پر کرتے ہیں اس قدر حسد اور امر پر نہیں کرتے تم بھی آمین بکثرت کہا کرو} ۳؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:857،قال الشیخ الألبانی:ضعیف جدا) اس کی اسناد میں طلحہ بن عمرو راوی ضعیف ہیں ۔ ابن مردویہ میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ {آپ نے فرمایا آمین اللہ تعالیٰ کی مہر ہے اپنے مومن بندوں پر} ۴؎ ۔ (سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1487،ضعیف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ {نماز میں آمین کہنی اور دعا پر آمین کہنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی ۔ ہاں اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ایک خاص دعا پر ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے ۔ تم اپنی دعاؤں کو آمین پر ختم کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے حق میں قبول فرمایا کرے گا} ۵؎ ۔ (ابن خزیمہ:1586:ضعیف) اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کے ان الفاظ کو دیکھئے جن میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا : «رَبَّنَا إِنَّکَ آتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَہُ زِینَۃً وَأَمْوَالًا فِی الْحَیَاۃِ الدٰنْیَا رَبَّنَا لِیُضِلٰوا عَنْ سَبِیلِکَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَیٰ أَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلَیٰ قُلُوبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوا حَتَّیٰ یَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِیمَ» ۶؎ (10-یونس:88) ہے الخ یعنی ’الہٰی تو نے فرعون اور فرعونیوں کو دنیا کی زینت اور مال دنیا زندگانی میں عطا فرمایا ہے جس سے وہ تیری راہ سے دوسروں کو بہکا رہے ہیں ۔ اللہ ان کے مال برباد کر اور ان کے دل سخت کر ، جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں یہ ایمان نہ لائیں‘ ۔ موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کی قبولت کا اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے : «قَدْ أُجِیبَتْ دَعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِیلَ الَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ» ۷؎ (10-یونس:89) الخ یعنی ’تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ، تم مضبوط رہو اور بےعلموں کی راہ نہ جاؤ‘ ۔ دعا صرف موسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور ہارون علیہ السلام صرف آمین کہتے تھے لیکن قرآن نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی ۔ اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص کسی دعا پر آمین کہے وہ گویا خود وہ دعا کر رہا ہے ۔ اب اس استدلال کو سامنے رکھ کر وہ قیاس کرتے ہیں کہ مقتدی قرأت نہ کرے ، اس لیے کہ اس کا سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہنا پڑھنے کے قائم مقام ہے اور اس حدیث کو بھی دلیل میں لاتے ہیں کہ جس کا امام ہو تو اس کے امام کی قرأت اس کی قرأت ہے ۔ ( مسند احمد ) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آمین میں مجھ سے سبقت نہ کیا کیجئے اس کھینچا تانی سے مقتدی پر جہری نمازوں میں «الْحَمْدُ» کا نہ پڑھنا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» [یہ یاد رہے کہ اس کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب امام «غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ» کہہ کر آمین کہتا ہے آسمان والوں کی آمین زمین والوں کی آمین سے مل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے تمام پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔ آمین نہ کہنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایک قوم کے ساتھ مل کر غزوہ کرے ، غالب آئے ، مال غنیمت جمع کرے ، اب قرعہ ڈال کر حصہ لینے لگے تو اس شخص کے نام قرعہ نکلے ہی نہیں اور کوئی حصہ نہ ملے وہ کہے ” یہ کیوں ؟ “ تو جواب ملے تیرے آمین نہ کہنے کی وجہ سے “} ۱؎ ۔ (ابویعلی فی مسندہ:6411:ضعیف)